پاکستان اور پاکستانی عسکری ادارے مشکل میں 48

ہائے رے پاکستان

کوئی پوچھے اس ماں سے جس کا لخت جگر اس سے جدا ہو گیا۔ کوئی پوچھے اس بیوی سے جس کے چار بچوں کا باپ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ اس کا قصور کیا تھا؟ یہی کہ وہ ایک ایسی جماعت کو سپورٹ کررہا تھا جس نے نیا پاکستان بنانے کا عزم کیا اور جس نے ان فرعونوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا جو گزشتہ 74 سالوں سے پاکستان کا خون چوستے آرہے ہیں مگر نیا پاکستان بنانے والوں کو بھی لانے والے یہی وردی میں چھپے لٹیرے تھے جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک سول حکومتیں بنا اور بگاڑ رہے ہیں۔ ہمیشہ ایسے ہی افراد کا انتخاب کرتے رہے کہ جو گفتار کے غازی تھے اور نہ کردار کے۔ انہیں اپنے مفادات کی غرض سے مسند اقتدار پر اس وقت بیٹھنے کی اجازت دی۔ جب تک ان کی نظریں وردی والوں کی کرپشن تک نہ پہنچیں مگر جونہی کسی نے ان کی کرپشن پر بات کی وہیں کایا پلٹ گئی اور انہیں اپنے ہی تراشے ہوئے بت کھٹکنے لگے۔ پھر کبھی اسکندر مرزا، کبھی ایوب خان، کبھی ضیاءالحق اور کبھی پرویز مشرف وردی والوں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ ایسے ایسے بھوکے اور ننگے پاکستانیوں کو مسند اقتدار پر بٹھا دیا گیا کہ جو گھر کے چوکیدار بنائے جانے کے قابل بھی نہیں تھے۔
یوں پاکستان معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک انہی ملکی دلالوں کے ہاتھوں دنیا بھر میں فروخت ہو رہا ہے۔ نہ عزت نفس محفوظ ہے اور نہ ہی شرم اور غیرت، پاکستانی ایک گالی بن چکا ہے اور لوگ ہمیں حقارت سے دیکھتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی تجربہ گاہ سے نکلنے والے ہر شخص نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جب کہ فوج کے جرنلز نے بھی اپنی بندوقیں اپنے ہی ہم وطنوں پر تان لیں۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بعد بھی شرم نہ آئی تو کشمیر کا سودا بھی کر ڈالا پھر اسامہ بن لادن کو بیچا، الظواہری کو بیچا، افغانستان، عراق، شام، سعودی عرب میں کرائے کے ٹٹو بن کے خراج اور اپنی قیمت آج بھی وصول کررہے ہیں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کررہے ہیں۔ مگر شاید اب ان کے احتساب کا وقت قریب ہے یا پھر پاکستان اپنے قیام کی مدت پوری کر چکا ہے۔ پاکستانی عوام کس قدر بدنصیب ہے کہ وہ اپنے ہی چوکیداروں کے ہاتھوں یرغمال ہے، نہ لکھ سکتی ہے، نہ بول سکتی ہے اور نہ ہی ظلم کے خلاف باہر نکل سکتی ہے کہ یہ سب کچھ ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ سو پاکستان میں رہنے والے سارے غداروں کو مار دینا چاہئے اور صرف ملاﺅں، وردی والوں اور بیوروکریسی کو اپنے چند فیوڈل لارڈز کے ساتھ مل کر اس پاکستان کو پالنا چاہئے کہ یہی اس بدقسمت ملک کا انجام ہونا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں