بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات ان کا سدباب کیوں کر ہو؟ 20

یہ کیسے ہوا؟

نوٹ: سر آرتھر کونن ڈائل ( 1859 سے 1930 ) صرف شرلاک ہومز کی کہانیوں سے ہی مشہور نہیں بلکہ ا±ن کی شہرت مختصر مافوق الفطرت کہانیوں سے بھی ہے۔ 1929میں ا±ن کی شائع ہونے والی کتاب ” ٹیلز آف ٹوائی لائٹ اینڈ دی اَن سِین “کی ایک کہانی ” ہاو¿ اِٹ ہیپِنڈ “ اس کی ایک مثال ہے۔درجِ ذیل کہانی اس سے ماخوذ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ 1975کی بات ہو گی۔رضوان کی مری کے ایک نامور ہوٹل میں نئی نئی ملازمت ہوئی تھی۔ وہ صبح پنڈی سے مری چلنے والی پہلی ویگن پر جاتا۔ سلیم سے ا±س کی ملاقات ویگن میں ہوئی۔یہ پنڈی مری اور مظفر آباد کے روٹ پر ڈرائیور تھا۔پھر اس نے ایک ویگن خرید لی۔ رضوان اکثر ا±س کی ویگن کی اگلی نشست پربیٹھتا تھا۔ بتدریج اس سے واقفیت بڑھتی گئی۔پھر دو چار روز سلیم نظر نہیں آیا۔ اڈوں کے سب ڈرائیور، کنڈکٹر اور کلینر ایک دوسرے جانتے ہیں۔معلوم کیا تو پتا چلا کہ ا±س نے حال ہی میں 1965 ماڈل کا ایک بیڈ فورڈ راکٹ ٹرک خریداہے۔اور گزشتہ رات وہ مری سے ایک ڈرایو¿ر کے ساتھ پہلی مرتبہ اپنا ٹرک لے کر راولپنڈی روانہ ہوا تھا۔
ا±س روز ہوٹل میں کوئی اتنا زیادہ کام نہیں تھا لہٰذا رضوان دوپہر کا کھانا کھا کر تھوڑی دیر ہوٹل استقبالیہ کے پیچھے کمرے میں قیلولہ کرنے چلا گیا۔بس معمولی آنکھ ہی لگی ہو گی کہ اسے یوں محسوس ہوا گویا کمرے میں کوئی آیا ہو۔غنودگی کا عالم تھا جب سامنے سلیم ڈرایو¿ر کو کرسی پر بیٹھے دیکھا۔ وہ ہلکی آواز میں کچھ کہہ رہا تھا۔گفتگو کے دوران لمحے بھر کو رضوان کو اونگھ آئی۔جب آنکھ کھولی تو سلیم جا چکا تھا۔اور ا±س کی ک±رسی پر بیڈ فورڈ راکٹ ٹرک کی چابی رکھی ہوئی تھی۔ وہ حیران رہ گیا۔اس نے چابی اٹھائی اور سلیم کو دینے کی غرض سے اڈے کی طرف چلا۔وہاں وہ سلیم سے متعلق پوچھ تاچھ کرنے لگا۔
” آپ کو یہ چابی کہاں سے ملی؟ اس کا تو دو دن پہلے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا “۔اڈے کے ایک کارندے نے اطلاع دی۔
رضوان ہکا بکا رہ گیا۔ ” کیسے ؟ “۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیم کو ٹرک مالک سے کاغذات وصول کرنے میں کافی وقت لگا۔ رات خاصی ہو چکی تھی۔اس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ وہ ساڑھے دس بجا رہی تھی۔ پھر اس نے حساب لگایا کہ وہ آدھی رات سے پہلے پنڈی پہنچ سکتا ہے! سامنے اس کا بیڈ فورڈ راکٹ ڈیزل ٹرک کھڑا تھا۔اس کو دیکھ کر وہ بے حد مسرور تھا۔
” چلنے میں یہ ٹرک کیسا ہے؟ “۔ اس نے اپنے نئے ڈرائیور کرم الہی سے پوچھا۔
” یہ بہترین ہے! “۔ ا±س نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
” میں خود ا±سے آزماو¿ں گا “۔یہ کہتے ہوئے سلیم ڈرائیور کی نشست پر آ گیا۔
” ویگن اور ٹرک ڈرائیونگ میں بہت فرق ہے۔بہتر ہو گا کہ پہلے ٹرک کو میدان اور کم مصروف سڑکوں پر چلا یا جائے۔ اس میں گیئر تبدیل کرتے ہوئے دو مرتبہ کلچ دبانا پڑتا ہے۔ابھی آپ کو ویگن چلانے کی عادت ہے۔اس پر ہاتھ صاف کر کے ہی پہاڑی راستوں پر جانا مناسب ہو گا “۔
سلیم خاموشی سے کھسک کر آگے ہو گیا۔ مری سے چھرہ پانی تک کرم الہی بیڈ فورڈ کو چلا کر لایا۔یہ مقام راولپنڈی جاتے ہوئے تقریباََ آدھے فاصلے پر واقع ہے۔یہاں بسوں، ٹرکوں کے انجن کے ریڈی ایٹر میں پانی ڈالا جاتا ہے۔یہ سب کاروائی آج بھی ویسے ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہاں قیام کے بعد کرم الہی کے منع کرنے کے باوجود سلیم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔بیڈ فورڈ راکٹ منزل کی جانب روانہ ہوا۔اس کو چلانے میں مہارت حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔جلد ہی اسے ایسے لگا جیسے وہ اسے سمجھ گیا ہو۔ ٹھیک ہے ڈرائیونگ میں دن اور رات کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اندھیرے میں بیڈ فورڈ ٹرک کے گیئر کا نظام سیکھنا پرلے درجے کی بے وقوفی تھی۔ بہرحال سفر جاری رہا۔تین چار خطر ناک موڑ بھی آئے۔ رفتار کی مناسبت سے گیئر بھی تبدیل ہوتے رہے۔
اب وہ ایک ڈھلوان پر تھے۔وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا زمانہ نہیں تھا لہٰذا نیچے جا بجا برقی قمقمے تاروں کی مانند جگ مگ کرتے نظر آئے۔ جیسے ہی ٹرک نیچے کی جانب اترنا شروع ہوا ویسے ہی اس نے رفتار کم کرنے کے لئے گیئر بدلنے کی کوشش کی۔یہیں سے خرابی کا آغاز ہوا۔ اس نے بے دھیانی میں ویگن کی طرح ایک ہی دفعہ کلچ دبا کر گیئر تبدیل کر دیا۔ کڑک کڑاک…… انجن سے آواز آئی اور گیئر فری ہو گیا…… آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا …… ٹرک کی ہینڈ بریک بہت ہی کمزور تھی۔یہ بات سلیم کو اس کے گزشتہ مالک نے بتلا دی تھی۔ کوشش کے بعد بھی ٹرک کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ اس نے بریک پیڈل پر اپنے پیر کا پورا وزن ڈال دیا۔ڈھلوان پررفتار کم ہوئی اور پچھلے پہیوں سے ربڑ جلنے کی بو آ نے لگی۔ اس کے ٹھنڈے پسینے چھوٹ گئے۔
ڈھلوان پر ایک موڑ خیریت سے گزرا۔ وہ کافی عرصے سے اِس روٹ پر ویگن چلاتا رہا تھا لہٰذا یہاں کے چپے چپے سے واقف تھا۔ دوسرا موڑ م±ڑتے ہوئے کھائی میں جاتے جاتے بچے کیوں کہ ا س وقت بھی رفتار ٹرک کے لحاظ سے بہت زیادہ تھی۔اب تقریباََ ایک میل مزید اترائی تھی پھر تیسرا موڑ آنا تھا۔ یہیں ٹرک اور ٹریکٹر کے اوپر چڑھائی چڑھنے کا کچا راستہ تھا جس کی ایک جانب بہت سے درخت تھے۔اگر وہ اپنا بیڈ فورڈ راکٹ یہاں لانے میں کامیاب ہو جاتے تو زندگی کی ضمانت تھی ……
اس پورے عرصے کرم الہیٰ بالکل چوکس اور اسٹیرنگ وہیل سنبھالنے میں اس کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہا تھا۔وہ پاور اسٹیرنگ کا زمانہ نہیں تھا۔عام حالات میں بھی ٹرک کا اسٹیرنگ وہیل طاقت لگانے سے موڑا جاتا تھا۔ سلیم کو حیرت ہوئی کہ کرم الہیٰ اس کی سوچ کو ا±چک لیتا۔ وہ جو سوچتا وہ وہی اسٹیرینگ وہیل کے موڑنے میں کر گزرتا۔
” ہم اس سے زیادہ نہیں کر سکتے۔ ٹرک کو کسی نہ کسی طرح روکنا ہوگا۔ا±ترائی پر یہی رفتار رہی تو ٹرک ا±لٹ جائے گا “۔کرم الہیٰ نے خبردار کرتے ہوئے پہلی مرتبہ الفاظ منہ سے نکالے۔
ایک جھٹکا لگا اور ٹرک کی سامنے کی لائٹیں بند ہو گئیں ……ٹرک کی رفتار اب بھی زیادہ تھی……کرم الہیٰ نے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ اسٹیرنگ وہیل پکڑ لیا۔
” سلیم! میں ٹرک کو سیدھا رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ہم یہ موڑ سلامتی سے نہیں م±ڑ سکتے۔تم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چلتے ٹرک سے نیچے کود جاو¿…… بسم اللہ کرو سلیم! شاید یہ موقع پھر نہیں آئے “۔ ا±س نے دل کی گہرائیوں سے کہا۔
” نہیں!! البتہ تم چاہو تو دروازہ کھول کر چھلانگ لگا لو “۔
” دیکھو یہ بحث کا وقت نہیں ! “۔کرم الہی نے کہا۔
وہ اپنی ویگن کے انجن سے پوری طرح واقف تھا۔اگر ٹرک کی جگہ وہ ہوتی تو سلیم چلتے میں اسکا ریورس گیئر لگا دیتا۔گیر بکس ٹوٹ جاتا اور انجن جام ہو جاتا……لیکن …… ٹرک نے ایک موڑ کاٹا اور ا±س کا اگلا پہیہ سڑک کے انتہائی کنارے سے تین فٹ ا±وپر ا±ٹھ گیا۔ اس نے سوچا کہ شاید ہم دونوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔لیکن اگلے ہی لمحے بیڈ فورڈ سڑک پر سیدھا ہوا اور واقعی راکٹ بن کر ا±سی رفتار سے ہوا ہو گیا۔ ان کے اوسان قدرے بحال ہوئے۔کیوں کہ یہ ا±ترائی کا آخری پ±ر پیچ موڑ تھا۔ ٹرک کی ہیڈ لائٹیں نہیں تھیں مگر ہلکی روشنی میں سامنے وہ کچا راستہ نظر آ رہا تھا جو اوپر کی جانب معمولی سا خم کھاتا ہوا نسبتاََ ہموار قطعہ پر نکلتا تھا۔یہ راستہ مین روڈ سے بائیں جانب تقریباََ 20گز ہٹ کر تھا۔ ان دونوں نے مل کر اسٹیرنگ وہیل کو ا±وپر جانے والے کچے راستے پر موڑنے کی کوشش کی۔ ٹرک پورے طور ا±س اوپر جانے والے راستے کی جانب نہیں مڑا تھا کہ اسٹیرنگ وہیل کو ایک زور دار جھٹکا لگا۔شاید ٹرک کا دا یاں پہیہ، پتھر اور کنکریٹ کے حفاظتی پشتے سے ٹکرایا تھا۔ ایک ساعت کے لئے سلیم کو اپنی بائیں جانب اوپر کو جاتا راستہ نظر آیا۔ اس نے کلائیوں کے پورے زور سے اسٹیرنگ وہیل کو راستے کی جانب گھ±مانے کی کوشش کی۔
ا±سی لمحے کرم الہی چیخا: ” باہر کود جاو¿! “۔
وہ دونوں تقریباََ ایک ساتھ دروازے کھول کر باہر کود گئے۔ گرتے گرتے بھی سلیم نے اپنے بیڈ فورڈ راکٹ ڈیزل ٹرک کے اگلے دائیں پہیے کو ایک زور دار دھماکے سے حفاظتی پشتے سے ٹکراتے دیکھا …… اس کے حواس قائم تھے۔ اسے یوں لگا گویا وہ ہوا میں ا±ڑا اور پھر ……
جب اسے ہوش آیا تو کچے راستے میں درختوں کے قریب اپنے آپ کو پایا۔کوئی شخص اس کے قریب کھڑا تھا۔ اس نے خیال کیا کہ یہ کرم الہیٰ ہو گا مگر جب دوبارہ دیکھا تو وہ ویگن اڈہ راولپنڈی کا دوست ارسلان تھا۔یہ سلیم کا پ±ر خلوص دوست تھا جو مشکل وقت میں کام آ تا تھا۔ا±س وقت وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ا±س کی آدھ جاگی آدھ سوئی حالت تھی۔گویا قوتِ گویائی باقی نہ رہی ہو۔
” کیسی ٹکر تھی ؟ یا اللہ! کیسا خوفناک حادثہ تھا “۔ سلیم نے کہا۔
ارسلان نے افسردگی کے عالم میں اثبات میں سر ہلایا۔اِس صورتِ حال میں بھی ا±س کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نظر آ رہی تھی جو اس کی پہچان تھی۔ سلیم نے حرکت کرنے کی کوشش کی لیکن نا کام رہا۔شاہد ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہو۔پھر اس نے یہ کوشش ترک کر دی البتہ حواس انتہائی چوکس تھے۔ اس کے سامنے ٹارچوں اور لالٹینوں کی روشنی میں بیڈ فورڈ ٹرک پہلو کے بل پڑا ہوا تھا۔لوگوں کی دبی دبی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ا±ن میں سے کوئی ایک بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ا±ن کی سب بھاگ دوڑ ٹرک کے آس پاس محدود تھی۔پھر ا یک درد بھری چیخ ابھری۔
” ارے احتیاط سے …… اس پر ٹرک کی ایک جانب کا وزن پڑ رہا ہے۔آو¿ سب مل کر ٹرک کو یہاں سے کچھ ا±وپر ا±ٹھائیں “۔ لوگوں میں سے کوئی بولا۔
” آرام سے …… میری ٹانگ ہے …… یہ آواز کرم الہیٰ کی تھی۔دیکھو سلیم کہاں ہے! “۔وہ چلایا۔
” میں یہاں ہوں “۔ اس نے جواب دیا، لیکن ان لوگوں نے نہیں س±نا۔وہ تمام لوگ پہلو کے بل گرے ہوئے بیڈ فورڈ راکٹ کے آگے کسی ایسی چیز پر جھ±ک رہے تھے جو ا±س کے سامنے تھی۔ارسلان نے سلیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔ا±س کا یہ چھونا اس کے لئے نا قابلِ بیان حد تک اطمینان بخش تھا۔ وہ اپنی تمام تکالیف جیسے بھول گیا اور اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کیا۔
” کوئی تکلیف تو نہیں؟ “۔ا±س نے سوال کیا۔
” بالکل بھی نہیں! “۔ سلیم نے جواب دیا۔
” درد اور تکلیف تو کبھی تھی ہی نہیں!! “۔ا±س نے کہا۔
اس کے ساتھ ہی سلیم کو حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا۔ارسلان! ارسلان! تو چند ماہ ا±دھر ٹائی فائڈ کے مرض میں فوت ہو گیا تھا۔
” ارسلان! “۔ وہ بہ آوازِ ب±لند بولا۔لیکن گلے سے الفاظ گھ±ٹی ہوئی آواز میں نکلے۔
” ارسلان تم تو مر چکے ہو “۔
ا±س نے اپنی ا±سی مشہورِ زمانہ مسکراہٹ سے میری جانب دیکھا۔
” اب تم بھی تو …… “۔ ا±س نے جواب دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں