Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پنکی کا زہر اور پاکستان؟ 7

پنکی کا زہر اور پاکستان؟

کراچی میں زہر کا کاروبار کرنے والی پنکی کی گرفتاری سے ایک بہت بڑا پنڈورہ باکس کھل گیا ہے اور اب اس اسکینڈل کا دائرہ روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے اس میں اب سرکاری افسروں، سیاستدانوں، فنکاروں کے علاوہ صنعت کاروں اور ججز کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اگر یہ کہا جائے کہ اس بہتی دریا میں ہر کسی نے اپنے اپنے مرتبے اور اپنی اپنی خواہشوں کے تحت ہاتھ دھونے کا سلسلہ جاری و ساری رکھا تو غلط نہ ہو گا اس طرح سے پنکی کے تیار کردہ کوکین برانڈ کے وہ نہ صرف عادی ہو کر مستقل گاہک بن گئے ان کے پرستار طلب گار ہو گئے بلکہ اس کے سہولتکار اور مددگار بھی بن گئے جس کی وجہ سے انکا زہر بیچنے کا یہ نیٹ ورک ہر طرح کی بندشوں سے بے نیاز ہو کر کراچی سے پھیلتے پھیلتے لاہور اور دارالحکومت تک پھیل گیا اور ساری اشرافیہ ہی اس لت میں مبتلا ہو کر پنکی کے مٹھی میں آگئی لیکن اس کے بعد جیسے ہی ان کے لیبارٹری میں تیار کردہ اس کوکین زہر کی وجہ سے سرمایہ داروں کے بچوں کی ہلاکت کے بعد سندھ کے بڑے بڑے سیاستدانوں کے گھروں کے چراغ گل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا اور وہاں سے جنازے اٹھنا شروع ہو گئے تو اس کے بعد سب کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئی کیونکہ آگ ان کے اپنے گھروں تک پہنچ گئی تو اس کے بعد سندھ سرکار کا سویا ہوا ضمیر جاگ گیا اور اس طرح سے انمول عرف پنکی کے برے دن آنا شروع ہو گئے اور بالاخر وہ لاہور سے پکڑی گئی اور اسے بعد میں کراچی منتقل کردیا گیا جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ کھڑے کھڑے ان کی جیل کسٹڈی بھی ہو گئی اور اس طرح سے کراچی پولیس میں چھپا ان کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا اور اس کے بعد سندھ سرکار حرکت میں آگئی اور انکوائری کا ٹوپی ڈرامہ شروع ہوا۔ اسی دوران پنکی سے عمران خان سے متعلق بیان دلوانے کی کوششیں کی گئی مگر پنکی نے عورت ہو کر وہ کوشش ناکام بنا دی۔ پنکی کا یہ زہریلا نیٹ ورک کون چلا رہا ہے۔۔۔؟ کون نظر نہ آنے والا ہاتھ پنکی کو نہ صرف بچا رہا ہے بلکہ اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال بھی کررہا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ پنکی کے خلاف حساس اداروں اور پولیس نے مل کر انکوائری مکمل کر لی ہے مگر اس سے فیض یاب ہونے والوں کی فہرست سامنے نہ آسکی کہ کون کون سے سیاستدان اور صدر پاکستان کے کون سے اے ڈی سی بھی ان کے گاہک اور سہولت کار ہیں اور کون کون سی نامور اداکارائیں بھی ان سے یہ ہی زہر اپنی پرفارمنس کو مزید بہتر بنانے کے لئے باقاعدگی سے استعمال کررہی ہے اور کون کون سے سیاستدان اپنی سیاست کو مزید جوڑ توڑ کے لئے موثر طریقے سے چلانے کے لئے پنکی کے تیار کردہ پراڈکٹ کے محتجا ہو گئے ہیں، وہ ججز کون سے ہیں جو پنکی کے پراڈکٹ کو استعمال کئے بغیر کوئی بھی فیصلہ لکھنے کے اب قابل نہ رہے۔ اندازہ لگائیں پنکی کا زہر پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں کتنی سرایت کر چکا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اب پنکی اور ان کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنا اتنا آسان نہ رہا جن سابقہ پولیس والوں نے اسے پکڑنے کا کارنامہ سر انجام دیا ہے ان کی زندگی کو تو خطرہ لاحق ہو گیا ہو گا جن کی حفاظت اب سندھ حکومت کی ذمہ داری بن گئی ہے اب اگر غلطی سے یا پھر کسی بھی وجہ سے نئی نسل کو زہر سپلائی کرنے والی پنکی پکڑی ہی گئی ہے تو پھر اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جائے بلکہ ان کے سہولت کار پولیس کے بڑے افسروں کو بھی نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو زہر کا کاروبار کرکے مستقبل کے معماروں کو تباہ کرنے کی جرات اور ہمت نہ ہو اسی میں پاکستان کی فلاح ترقی اور سلامتی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں