28 ویں ترمیم زرداری اور ان کی پارٹی کے لئے موت کا پیغام بن کر لائی جارہی ہے جیسے جیسے جون کا مہینہ قریب آتا جارہا ہے ویسے ویسے جہاں موسم گرم سے گرم تر ہوتا جارہا ہے وہیں سیاسی درجہ حرارت بھی خاص طور سے زرداری اور ان کی پارٹی اور ان کے حرام خور وزراءکے لئے گرم سے گرم تر ہوتا جارہا ہے۔ سندھ میں نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں بھی تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ گرفتاریوں کا موسم بھی جلد ہی آنے کو ہے۔ مفاہمتوں کے شہنشاہ نے بھی اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دیئے ہیں اور اصل سرکار کے سارے مخالفین اور ان سیاسی جماعتوں سے جو اس سسٹم کو پریشان کرنے کی پوزیشن میں ہیں ان سے میل جول کا سلسلہ براہ راست یا پھر بالواسطہ طور پر کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ کراچی میں بھٹو ہائی وے کے افتتاحی تقریب میں اچانک بلاول زرداری نے جس طرح سے بلاکسی وجہ اور ضرورت کے ایک پارٹی اور ان کے رہنما کو آڑے ہاتھوں لے کر ان پر تنقیدوں کی بوچھاڑ کردی اس سے وہاں موجود سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور ان کے سارے وزراءکو پریشان اور حیران کرکے رکھ دیا کہ آخر بلاول زرداری کو بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا۔ آ بیل مجھے مار کی مصداق بلاوجہ ایک سوئے ہوئے شیر کو انہوں نے جگا دیا۔ بظاہر یہ سب کچھ اتفاقاً ہوا جس کی وجہ سے یہ سارے لوگ حیران بھی ہوئے اور پریشان۔۔۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے یہ کوئی زرداری اور بلاول کی بوکھلاہٹ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک طے شدہ کھیل کا حصہ ہے۔ بلاول زرداری کا اس طرح سے اس سیاسی جماعت اور ان کے قائد کو للکارنے کا مطلب ان کی مارکیٹنگ کرنا ہے۔ بجھتی ہوئی چنگاریوں کو ہوا دے کر آگ کا شعلہ بنانا ہے اور آگ کا شعلہ دوسروں کو تباہ کرنے کے لئے ہی بھڑکایا جاتا ہے۔ کون کراچی کو دوبارہ اندھیروں میں دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے؟ کون دوبارہ سے کراچی میں دہشت کے راج کے لئے راہیں ہموار کررہا ہے؟ اور کون اس ملک دشمن قوتوں کی سہولت کاری کا مرتکب ہو رہا ہے؟ ایک برائے نام اسلامی ملک جو بظاہر وطن عزیز کا دوست بنا پھرتا ہے، ایران کے ہاتھوں تباہ ہونے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے گوادر پورٹ کے پروان چڑھنے سے بہت دھکی اور غمزدہ ہے، وہ گوادر اور کراچی کو اندھیروں میں ڈوبتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے اس لئے میڈیا رپورٹس کے مطابق بہت بڑی انویسٹمنٹ کراچی اور بلوچستان کی صورتحال کو خراب سے خراب تر کرنے کے لئے خرچ کردی گئی ہے۔ اسی وجہ سے زداری اور ان کی پارٹی کے پاس 28 ویں ترمیم سے بچنے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھا ان کا یہ اقدام اگر اس میں صداقت ہے تو پھر پوری طرح سے ملک دشمنی کے زمرے میں آتا ہے اور اس صورت میں اصل سرکار یعنی قانون نافذ کرنے والی قوتوں کو حرکت میں آ جانا چاہئے اس لئے کہ ملک کی سلامتی پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بے رحمی سے آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اب کسی بھی طرح کے دہشت گردی اور تخریب کاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیاست کو جرم اور دہشت گردی سے پاک کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کسی کو بھی ملک اور اس کے سلامتی کے اداروں کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ پہلے ملک اور اس کی سلامتی اس کے بعد سیاست جمہوریت اور پارلیمنٹ ہے۔ ملک کے سلامتی کے اداروں کو چاہئے کہ اس طرح کی تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کی جائے جو دشمن ملکوں کے ساتھ مل کر وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
5













