Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
نظر اوجھل پہاڑ اوجھل ؟ 186

حکومتی تبدیلی؟

عالمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ پاکستان میں تبدیلی کا پہیہ گھومنے لگا، جون کے آخر اور جولائی کے وسط تک صورتحال واضح ہو جائے گی کہ پاکستان میں کس طرح کی طرز حکمرانی کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے، پہلے ہی پاکستان میں تمام تر ضروری شعبوں کو علامتی بنا دیا گیا ہے؟ درختوں پر گملوں کو ترجیح دینے کا تجربہ ہر شعبہ ہائے زندگی پر کروائے جانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ سچ اور سچائی کو پروان چڑھانے والے اداروں کو مفلوج کردیا گیا ہے۔ جھوٹ اور سچ کے فرق کو ختم کردی اگیا۔ مظلوم کے لئے ڈھال بننے والے تمام سرکاری اداروں کے ریمورٹ کنٹرول ظالموں کے ہاتھ میں دے دیئے گئے، سرکاری سطح پر جنرل ڈائری کی سوچ رکھنے والے سرکاری افسروں کی نہ صرف حوصلہ افزائی بلکہ ان کے اس دہشت گردی کو ان کا کارنامہ ظاہر کرکے انہیں ترقی دینے بہادری کے تمغے کے ساتھ ساتھ پسند کے عہدے دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے غرض ہر طرح سے ملک میں رہنے والوں پر دہشت کے بادل لا کر انہیں زیادہ سے زیادہ خوفزدہ اور غلام سے غلام تر بنانے کا کام تیز سے تیز تر کردیا گیا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ اور اس طرح کی صورتحال کس بات کا اشارہ دے رہی ہے۔ یا پھر یہ کس پر دلالت کا باعث بن رہی ہے، کوئی اندھا اور معمولی پڑھا لکھا شخص بھی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ یہ سب کچھ بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کے علاوہ پرلے درجے کی بزدلی اور کمزوری کا ثبوت ہے جو لوگ بھی اس طرح سے کررہے ہیں وہ بزدل ہی ڈرپوک ہیں یا پھر وہ انزائیٹی کے مرض کا شکار ہیں ایک انجانہ خوف ہے جو ان کا پیچھا موت بن کر کررہا ہے اور یہ سب کچھ وہی ان سے کروارہا ہے۔ اب اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کا ایک نمائندہ میراثی نیشل ٹی وی پر آکر پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے پیشن گوئیاں کرتا رہتا ہے، بے پر کی اڑاتا رہتا ہے کہ آگے چل کر ملک میں یہ ہونے والا ہے، فلاں وزیر اعلیٰ پر چاہ رہا ہے اور فلانا یہ خواہش رکھتا ہے یعنی پوری طرح سے وہ منجھے ہوئے سیاستدانوں کو ٹی وی پر بیٹھ کر ذلیل کررہا ہوتا ہے۔ انہیں بے لباس کرتا ہے کسی ایک میں بھی ذرا سی غیرت نہیں کہ اٹھ کر لوٹے نمائندے کا منہ توڑے اس کی زبان کھینچ کر اس کے ہاتھ میں دے دیں تاکہ جن لوگوں نے ان کے گلے میں پٹہ باندھ کر انہیں دوسروں پر بھونکنے کے لئے چھوڑ دیا ہے انہیں بھی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے لیکن چھوڑیے وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ آوے کا آوا ہی خراب ہے جن کے کہنے پر وہ دوسروں کی تذلیل کررہا ہے انہیں نہیں معلوم کہ وہ پہلے کس سیاسی جماعت سے وابستہ تھے جب وہ ان کے نہ ہو سکے تو ان کے سجن کس طرح سے ہو سکتے ہیں؟ خیر ذکر ملک میں تبدیلی کا ہو رہا تھا حکومت اور طقیہ کار کو بدلا جارہا ہے، معلوم نہیں یہ تبدیلی ”نئی بوتل پرانی شراب“ والی ہو گی یا پھر صدارتی طرز حکمرانی والی ہو گی کیونکہ صرف وزیراعظم ہی نہیں صدر بھی تبدیل ہونے جارہا ہے، دوسرے معنوں میں شریفوں اور زرداریوں کی نوکریاں ختم ہونے جارہی ہے اور ان سے غبن اور فراڈ کا حساب لینے کے لئے ان کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام معاملات کو احسن طریقے سے چلانے کے لئے 28 ویں ترمیم بھی اب لائی جارہی ہے۔ جس کے پاس ہوتے ہی دونوں حکمراں پارٹی کے ہاتھ کٹ جائیں گے یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں بھی بھنک پڑ چکی ہے اور وہ بھی اتنی آسانی سے 28 ویں ترمیم کو پاس ہونے نہیں دیں گے اس میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اپنی طرف سے ضرور کوشش کریں گے جس پر اصل سرکار اور حکمراں پارٹیوں میں ایک بہت ہی خطرناک جنگ ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے کہا جارہا ہے کہ جون کا آکر اور جولائی کے وسط میں پاکستان میں بہت بڑے بڑے واقعات دیکھنے اور خبریںسننے اور پڑھنے کو مل سکتی ہیں، اصل سرکار نے اپنے ارادوںکی تکمیل کے لئے تمام ضروری اقدامت کر لئے ہیں لیکن جو بھی ہو وہ وطن عزیز اور اس کے رہنے والوں کے لئے بہتر ہونا چاہئے، قانون کی حکمرانی کے لئے ہی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت ہے، قانون کی حکمرانی ہی واحد راستہ ہے اس ملک کی سلامتی اس کی ترقی اور بقاءکے لئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں