Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
انصاف کا جنازہ اٹھا دھوم دھام سے 9

انصاف کا جنازہ اٹھا دھوم دھام سے

پاکستان کے عدالتی نظام نے بھی پاکستانی جمہوریت کے قانون سازی کی طرح سے عجیب و غریب فیصلے کرکے انصاف کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ مجرم اور ملزم نیکی اور بدی کے فرق کو ہی مٹا کر رکھ دیا اور یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان میں صرف قانون ہی مکڑی کا جالا نہیں بلکہ عدالتی نظام بھی مکڑی کے جالا سے کم نہیں۔۔۔ جہاں انصاف کے نام پر کیڑے مکوڑوں کی طرح سے کمزور اور غریب لاوارث لوگ تو پھنستے ہوئے سزایاب ہو جاتے ہیں۔ پھانسی چڑھ جاتے ہیں لیکن بڑے بڑے جانور مکڑی کے جال کو پھاڑ کر نکلنے کی طرح سے اس عدالتی نظام میں ججوں کو پیچھے سے اپنی دھوتیاں اٹھاتے ہوئے قاتلوں کو باعزت بری کر دیتے ہیں اور نا انصافی کے لئے آواز اٹھانے والے محب الوطنوں کو عمر قید کی سزائیں دیتے ہیں اس طرح کا عدالتی نظام اس وقت پاکستان میں چل رہا ہے جو اس وقت پوری دنیا میں انصاف کا سر شرم سے جھکانے کا باعث بن رہا ہے پاکستان میں پچھلے چند دنوں میں دو اہم ترین عدالتی فیصلے ہوئے جس میں شامل ایک میں بلدیہ فیکٹری کراچی کے تین سو سے زائد افراد کے زندہ جلائے جانے والے دہشت گردی کے اس بڑی واردات میں ملوث خونی قاتلوں کو با عزت طور پر بری کردیا گیا، لعنت ہے فیصلہ کرنے والوں پر۔۔۔ اس طرح سے کوئٹہ کی ایک عدالت ڈاکٹر مائرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ اندازہ لگائیں پاکستانی ججز کے انصاف کا۔۔۔ جنہیں پھانسی کی سزا دینی چاہئے تھی انہیں تو باعزت بری کردیا اور جس غیر معمولی جرات مند اور اپنی قوم کے درد دل رکھنے والی ڈاکٹر مائرنگ بلوچ کو بہادری پر پھولوں کے ہار پہنانے چاہئے تھے ان کی ہمت اور جرات کو سراہنا چاہئے تھا انہیں عمر قید کی سزا سنا دی، لعنت ہے اس طرح کے عدالتی نظام پر جہاز ججز قصائی بن کر خود انصاف کے خون کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سعادت حسین منٹو نے عدالتی نظام سے متعلق برسوں پہلے جو بات کہی تھی وہ بالکل درست ثابت ہو رہی ہے کہ ”ہمارے ہاں کے ججز کے پاس اگر کوئی کمزور لاوارث غریب سائل آجائے تو یہ ججز اپنی دھوتیاں آگے سے اٹھا لیتے ہیں اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم نے جس طرح کا بھی فیصلہ دینا ہے وہ ٹھیک دیا ہے جو کرنا ہے کرلیں اور اگر کوئی طاقت ور منہ زور سائل آجائے تو پھر یہ ججز اپنی دھوتیاں پیچھے سے اٹھا لیتے ہیں، مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ تو مائی باپ ہیں آپ یہ بھی کر سکتے ہیں آپ جس طرح کا فیصلہ چاہتے ہیں وہ آپ کو مل جائے گا۔ یہ جو میں کہتا ہوں کہ سعادت حسین منٹو کی یہ بات بالکل درست تھی وہ اس لئے میں جرات کرکے کہہ رہا ہوں کہ ان دونوں حالیہ فیصلوں سے تو یہ ہی معلوم ہوتا ہے، بلدیہ فیکٹری والے کیس کا فیصلہ کرنے والے ججز نے اپنی دھوتی پیچھے اٹھا کر فیصلہ ان طاقتور ملزموں کے حق میں کرتے ہوئے انہیں با عزت بری کردیا ویسے میرے خیال میں اس میں سے با عزت کا لفظ نکال دینا چاہئے کیونکہ عزت وہیں کسی کو دے سکتے ہیں جن کے اپنے پاس عزت نہ ہو وہ کسی اور کو کیا عزت دے سکیں گے، با عزت کے بغیر بھی تو بری کیا جا سکتا ہے اور دوسرے فیصلے میں جس میں ایک بے گناہ خاتون کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اس میں ججز نے اپنے دھوتی کے ساتھ کیا کیا اس کا ذکر کرکے میں کسی شریف خاتون کی توہین نہیں کر سکتا، سزا سنانے والے ججز نے سعادتی حسین منتو کے قول کے مطابق ہی اپنا فعل کیا۔ بہت ہی دکھ ہوتا ہے پاکستان کے اس طرح کے عدالتی نظام کو دیکھ کر۔ قانون بنانے والے ادارے جمہوریت اور جمہوری نظام کا بھی حال خراب سے خراب تر ہے، یہ ہی قانون نافذ کرنے والوں کا ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ قانون اور انصاف کی بے توقیری کا باعث قانون بنانے والے خود اس کو نافذ کرنے والے اور فیصلہ کرنے والے۔۔۔ حالانکہ انہیں ہی سب سے زیادہ قانون اور انصاف کی تکریم کرنی چاہئے اسی سے یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ قانون اور عدالتیں صرف کمزوروں اور غریبوں کو کچلنے اور انہیں سزائیں دینے کے لئے کام کررہی ہیں اور مجرموں کی سہولتکاری کی مرتکب ہو رہی ہیں اس امتیازی نظام کو تبدیل کرنے میں ہی پاکستان کی سلامتی اور بقاءمضمر ہے۔ حکمرانوں کو اس جانب غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں