عمران خان اس وقت عالمی اسٹیبلشمنٹ کیلئے بالخصوص اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے بالعموم ایک اس طرح کا نوالا بن گیا ہے کہ جسے نہ تو نگلا جارہا ہے اور نہ ہی اگلا جاسکتا ہے آئے روز اپنی قید تنہائی یا پھر دوسرے معاملات کی وجہ سے وہ عالمی خبروں کی زینت بن جاتا ہے تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں کیا جاسکا اور برسوں پرانی یہ کہاوت ” نظر اوجھل پہاڑ اوجھل “ والی کہاوت ان پر کسی بھی طرح سے صادق نہیں آرہی ہے بلکہ ان کی غیر معمولی مقبولیت اور ان میں پائی جانیوالی بے شمار خوبیاں بھی ان کی مارکٹینگ کا باعث بن رہی ہیں انہیں کسی بھی صورت ان کے چاہنے والوں کی نظروں سو اوجھل نہیں ہونے دے رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے مخالفین بہت ہی زیادہ پریشان ہیں عمران خان کو ان کے مداحوں اور چاہنے والوں سے دور کرنے کی وجہ سے پاکستانی صحافی اور حکومتی مشنری بھی بہت ہی بری طرح سے بے نقاب ہوگئی ہے انکا مکروہ چہرہ ملکی عوام کے سامنے آگیا ابھی چند روز قبل عمران خان کے صاحبزادوں نے لندن میں اسپورٹس ٹی وی کو کیا انٹرویو دیا کہ پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا کھیلوں کی خبروں کے دوران ہی دنیائے کرکٹ کے ایک مایا ناز کرکٹر عمران خان کے ساتھ حکومتی سطح پر کیے جانے والے ظلم و زیادتی سے جب دنیا والوں کو آگاہی ہوئی تو عالمی سطح پر اس ناانصافی کا نوٹس لیا گیا اور یقیناً اس کا اثر پاکستانی حکمرانوں پر بھی پڑا ہوگا یہ ہی وجہ ہے کہ انکے لفافہ بردار صحافیوں کی چیخیں نکل گئی ایسے لگ رہا تھا کہ عمران خان کے بیٹوں نے انٹرویوں نہ دیا ہو بلکہ پاکستان کے ان لفافہ صحافیوں کو ماں بہن کی گالیاں دی ہو اس انٹرویو سے انہیں بہت ہ زیادی تکلیف ہوئی اس انٹرویو کرنے والے سابقہ کرکٹر پر نہ جانے کس کس طرح کے گھٹیا الزامات نہیں لگائے وہ خود پر قیاس کرتے ہوئے اپنی طرح سے دوسروں کو بھی راشی اور ضمیر فروش خیال کرتے ہوئے یہ کہنے سے خود کو نہ روک پائے کے انٹرویو کرنے والے نے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو رقم لے کر کیا ہے یعنی انٹرویو پیڈ تھا جس طرح سے یہ خود پاکستان میں شریفوں اور زرداریوں کے لوگوں کا انٹرویو پیسے لے کر کرتے ہیں اسی طرح سے یہ مغرب کے صحافیوں کو بھی سمجھتے ہیں مگر یہ درست نہیں دنیا بھر میں اس طرح کی زرد صحافت نہیں ہوتے جسطرح سے پاکستان میں ہورہی ہے پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے کنٹرول ہے وہ سچ نہ تو بول سکتے ہیں اور نہ ہی دکھاسکتے ہیں اور نہ ہی تحریر کرسکتے ہیں اس لیے مغربی میڈیا کو بھی پاکستان کی اس گھٹن زدہ صورتحال کو واضح کرنے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑررہا ہے بدقسمتی سے پاکستان کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد خود بھی نہ صرف سچائی کا گلا گھونٹ رہی ہے بلکہ ملکی عوام کو گمراہ کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں صحافت کا جو بنیادی کام ہے وہ اس سے پوری طرح سے انحراف کررہے ہیں اور سچائی کو چھپانے کی شکل میں ایک طرح سے ظالموں کا ساتھ دے کہ ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہورہے ہیں ان بڑے بڑے صحافیوں کی ان بداعمالیوں اور ضمیر فروشی کی وجہ سے پاکستانی عوام نے مین اسٹریم میڈیا کا بائیکاٹ کرلیا ہے انکے دیکھنے والے نہ ہونے کے برابر ہوگئے ہیں اور ملکی عوام کا رجحان سوشل میڈیا اور وی لاگرز کی جانب بڑھ گیا ہے اب ان بڑے بڑے ٹی وی چینلز کے مقابلے میں وی لاگرز کو دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ گئی ہے کیونکہ لوگ سچ دیکھنا چاہتے ہیں سچ سننا چاہتے ہیں اب لوگوں کو سرکاری خبروں پر کوئی اعتبار نہ رہا یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو کے بعد جسطرح سے پاکستان کے ان لفافہ صحافیوں نے واویلا مچایا اس کا فیڈ بیک بھی انہیں اچھا نہیں ملا، عمران خان ان کے حواس پر سوار ہوچکا ہے اور اب ان کی رہائی اور انہیں ریلیف دینا بھی پڑے گا حکمرانوں کو کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے انصاف اور قانون کے تقاضے پورا کرنا ہونگیں کیونکہ اس میں پاکستان کی شان آن پاکستان کی سلامتی اور بقاءمضمر ہے ۔
9













