ننگا الف 32

”جیک رسل“ کتے اور پاکستان

ایک ایسی تحریر جسے پڑھ کر میں رات کو سو نہیں سکا تھا اور سارا دن یہ تحریر میرے دل کو کچوکے لگاتی رہی، ہم ہر بات میں کہتے ہیں کہ اللہ نہ کرے کہ یہ سچ ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ شکاری کو دیکھ کر شتر مرغ ریت میں اپنا سر اندر کرلے۔ یہ جو کچھ لکھا گیا ہے اور جسے میں محض نقل کرنے کا گنہگار ہوں، آپ بھی پڑھ لیجئے۔ بعدازراہ کرم سونے سے قبل نہ پڑھیں ورنہ آپ کی آنکھوں سے نیند اڑ جائے گی اور اگر آنکھ لگ بھی گئی تو چونک چونک کر اٹھتے رہیں گے۔ یہ ایک انتباہ ہے، آگے آپ کی مرضی۔
راوی کے مطابق یہ تحریر ”جیک رسل“ نے تقریباً ڈیڑھ دو سال پہلے لکھی تھی اس کو پڑھ کر آج کے حالات کا تجزیہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ دنیا پاکستان کو خطرناک سمجھتی ہے، آپ جب تک یہ حقیقت نہیں مانیں گے، آپ پھنستے چلے جائیں گے، فضا میں سگار کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھیں، وہ ناک اور منہ دونوں سے دھواں اگل رہے تھے۔ مجھے تمباکو کی بو سے الرجی ہے، میرا سانس گھٹنے لگا، لیکن اس گفتگو کی وجہ سے تمباکو اور تمباکو کی بو دونوں کو برداشت کررہا تھا۔ وہ فنانشل ایکسپرٹ تھے، والد انڈین، والدہ امریکن ورجینیا میں پیدا ہوئے، ٹیرر فنانسنگ میں پی ایچ ڈی کی اور عالمی مالیاتی اداروں کے ایڈوائزر بن گئے۔ مذہباً مسلمان تھے، میری ان کی دوستی ایک دوست کے ذریعے ہوئی، وہ ملٹی نیشنل کمپنی کی دعوت پر پاکستان آئے تھے، میرے دوست نے انہیں اور مجھے کھانے پر بلالیا، ہم ریستوران میں ملے، ڈنر کیا اور وہ ٹیرس پر بیٹھ کر سگار پینے لگے اور میں ان کے تجربے سے لطف اندوز ہونے لگا۔ ان کا کہنا تھا، دنیا پاکستان کو خطرناک سمجھتی ہے، آپ لوگ لانگ رینج میزائل بنا رہے ہیں، آپ ایٹمی طاقت بھی ہیں، مگر معاشی لحاظ سے کمزور ہیں چنانچہ آپ دنیا کے لئے کسی وقت بھی مسئلہ بن سکتے ہیں، وہ رکے سگار کا لمبا کش لیا، آپ لوگوں کو دنیا کی اس آبزرویشن کو سیریس لینا ہوگا ورنہ آپ اپنا نقصان کریں گے، میں خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا، وہ بولے ”معیشت دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے“ آپ اگر معاشی طور پر طاقتور ہیں تو آپ ایٹم بم بھی رکھ سکتے ہیں، اور میزائل بھی بنا سکتے ہیں، یہ دونوں چین اور روس کے پاس بھی ہیں لیکن دنیا کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیوں؟ کیونکہ دنیا سمجھتی ہے یہ دونوں ملک معاشی لحاظ سے مستحکم ہیں، یہ کبھی دنیا کے لئے خطرہ نہیں بنیں گے جو انہیں کما کر دے رہی ہے لیکن پاکستان کمزور ہے، یہ زیادہ دیر تک ایٹمی اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، یہ رقم کے بدلے اپنے اثاثے فروخت کر سکتا ہے، اور نفسیاتی دباﺅ میں آکر ان کو استعمال بھی، چنانچہ آپ دنیا کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ میں آپ کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں، فرض کر لیجئے آپ ایک غریب انسان ہیں اور آپ کے پاس ایک نہایت مہلک اور قیمتی رائفل ہے، آپ اس رائفل سے کیا کیا کر سکتے ہیں، آپ پیسے کمانے کے لئے فروخت کر سکتے ہیں اور آپ دوسرے کی کنپٹی پر اٹھ کر اسے لوٹ بھی سکتے ہیں۔ دنیا کا خیال ہے کہ آپ ایک ایسے بھوک اور غریب رائفل بردار ہیں اور آپ کسی وقت بھی دونوں میں سے ایک آپشن اپنا سکتے ہیں۔ وہ رکے سگار کا ایک اور کش لیا اور بولتے، آپ کے خلاف یہ تاثر ہندوستان پھیلا رہا ہے، بھارتی حکومت نے 1990ءکی دہائی میں بے شمار طلباءکو وظائف دے کر امریکہ، کینیڈا، یورپ اور مشرقی بعید کے ممالک میں بھجوایا، اعلیٰ اداروں سے ڈگریاں کرائیں اور پھر انہیں عالمی اداروں میں بھرتی کرایا، یہ لوگ امریکی کانگریس میں سینئرز کے اسٹاف میں شامل ہیں اور یہ میڈیا انڈسٹری اور تھنک ٹینکس میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہ لوگ وہاں بیٹھ کر روز آپ کے خلاف خوف پھیلاتے ہیں اور دنیا اس خوف کو سچ مان لیتی ہے۔ آپ کا ماضی بھی اس سچ کی دلیل بن جاتا ہے، دنیا جانتی ہے آپ لوگوں نے سوویت یونین جیسی طاقت کو توڑ کر پھینک دیا، آپ نے اکیلے بھارت جیسی طاقت کو اٹھنے نہیں دیا، آپ تمام معاشی کمزوریوں کے باوجود جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں، آپ نے جے ایف تھنڈر تک بنا لئے ہیں چنانچہ عالمی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
وہ رکے ایک اور کش لیا اور بولے پاکستان کے بارے میں میری اسٹڈی ہے، عالمی طاقتیں آپ کو جنگ کا موقعہ نہیں دیں گی، وہ سمجھتی ہیں کہ آپ روایاتی جنگ نہیں لڑ سکتے، آپ جنگ کا آغاز ہی آخری ہتھیار سے کریں گے اور یہ پوری دنیا کے لئے خطرناک ہو گا چنانچہ یہ آپ کو اس سطح پر نہیں جانے دیں گے۔ آپ دو ماہ پیچھے چلے جائیں، بھارت نے بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کیا، پاکستان نے شور مچایا لیکن دنیا کے کسی ملک نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔ کیوں؟ کیونکہ دنیا اندازہ کرنا چاہتی تھی کہ آپ کس طرح اور کس حد تک ری ایکٹ کریں گے، آپ نے اگلے دن ہی بھارت کے دو طیارے مار گرائے، بھارت نے 27 فروری کی شب سرحد پر میزائل نصب کئے، آپ نے 14 کردیئے، 27 فروری کی رات کولڈ وار کے بعد دنیا کی خطرناک ترین شب تھی، ایک چھوٹی سی شرارت پوری دنیا کو تباہ کرسکتی تھی، چنانچہ دنیا فوراً متحرک ہوئی اور بڑی مشکل سے آگ ٹھنڈی کی۔ یہ ایک ٹیسٹ تھا اس سے پتہ چلا کہ آپ لوگ ہروقت جنگ کے لئے تیار رہتے ہیں لہذا آئندہ کبھی آپ کو اس حد تک نہیں جانے دیں گے۔ یہ اب آپ کو میزائل باہر نکالنے کا موقعہ نہیں دیں گے، یہ سرحدوں پر بھی آپ سے چھیڑچھاڑ نہیں کریں گے۔ اب عالمی طاقتیں آپ کو معاشی لحاظ سے تباہ کریں گی۔
میں حیرت سے انہیں دیکھنے لگا، وہ رکے لمبا سانس لیا اور بولے، ”آپ میری بات نوٹ کرلیں، آئی ایم ایف نے جان بوجھ کر آپ کا پیکیج لیٹ کیا ہے“ یہ اب بھی آپ کو بار بار ترسائے گا، یہ ڈالر مزید مہنگا کرے گا، یہ مہنگائی کو بارہ فیصد تک لے جائے گا، یہ پیٹرول، گیس اور بجلی مزید مہنگی کرائے گا، یہ ترقیاتی بجٹ کم کرائے گا، یہ بے روزگاری بڑھوائے گا، یہ ریاست کے ذریعہ کالعدم تنظیموں پر بھی دباﺅ بڑھوائے گا کہ وہ حکومت کے خلاف بغاوت کردیں، یہ پاکستان کی ایکسپورٹ بھی نہیں بڑھنے دے گا، یہ اسٹاک ایکسچینج کو بھی اٹھنے نہیں دے گا اور ٹیکسوں میں اضافے کروائے گا تاکہ عوام معاشی بوجھ تلے آکر کریش ہو جائیں اور یہ حکومت اور ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ میںخاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا، وہ بولے ”اور یہ پاکستان کے خلاف ایک گرینڈ ڈئٹرئن ہے آپ نے ”جیک رسل“ کے بارے میں سنا ہے؟ یہ چھوٹی سائنز کا خوفناک کتا ہوتا ہے، یہ ریچھ کا پیچھا کرتا ہوا اس کے غار میں گھس جاتا ہے، یہ سائز میں اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ریچھ اس کو پکڑ نہیں سکتا، یہ ریچھ کے پیچھے چھپ کر اسے اتنا زخمی کردیتا ہے کہ وہ اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہو سکتا، جیک رسل مکمل تسلی کے بعد غار سے نکلتا ہے، مالک کو اطلاع کرتا ہے اور شکاری غار کے دھانے پر پہنچ کر ریچھ کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے“۔
عالمی ادارے بھی جیک رسل ہوتے ہیں، یہ اپنے چھوٹے چھوٹے دانتوں اور جبڑوں سے دیوہیکل ریچھوں کو زخمی کر دیتے ہیں، ریچھ جب اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتے تو پھر بڑا شکاری آتا ہے اور ریچھ کو گولی مار دیتا ہے“ ۔ آپ نوٹ کر لو آپ کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، پاکستان پر ”جیک رسل“ چھوڑ دیئے گئے ہیں، یہ آپ کو زخمی کررہے ہیں، یہ آپ کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیں گے کہ آپ میزائل چلانا تو دور کی بات اسے باہر نکالنے کے قابل نہیں رہیں گے، آپ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہیں گے، پھر ٹیکس کی آمدنی فوج کے حوالے کرنے پر مجبور ہوں گے اور پھر التی گنتی شروع کر دیں کہ فوج کی بدنامی شروع ہو جائے گی۔ یہ فوج کو کمزور ترین کرکے آپ کو ہندوستان کے حوالے کردیں گے، جو آپ کو مالدیپ اور بھوٹان بنا کر اس کے قدموں میں بٹھا دیں گے اور آپ دنیا سے امداد کی بھیک لے لے کر ملک چلاتے رہیں گے اور یہ فیصلہ آئندہ چھ ماہ میں ہو جائے گا۔ اگر آپ کی اقتصادیات ٹیک آف نہیں کرے گی اور مارکیٹ مستحکم نہ ہوئی، کوئی معجزہ ہی آپ کو بچا سکتا ہے، آپ گرداب میں پھنس جائیں گے۔
میں نے پوچھا کہ بچت کا کوئی راستہ؟ وہ مسکرائے اور بولے ”پاکستان کی بچت کے تین راستے ہیں، معیشت، معیشت اور معیشت“ صرف اور صرف اس پر دھیان دیں تو بچ جائیں گے ورنہ؟ پورا ملک حماقتوں کی نذر ہو جائے گا۔“
(یہ کالم میرا نہیں بلکہ اسے مہمان کالم تصور کریں گے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں