Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 30

سیاستدانوں کی حب الوطنی اور۔۔۔

پاکستان میں جس طرح کی سیاست ان دنوں چل رہی ہے اس طرح کی سیاست کرتے ہوئے ہمیں کسی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ دشمن کا کام تو ہم خود ہی کررہے ہوتے ہیں۔ ان کے بیانیے کو ہی تقویت دینے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اس طرح سے کرکے ہم اپنی حب الوطنی کو بری طرح سے چھلنی کررہے ہوتے ہیں اور ہمارے اس طرح کے طرز عمل پر دور بیٹھا ہمارا دشمن مسکرا رہا ہوتا ہے۔ جی ہاں میرا اشارہ اسمبلی فلور پر ہونے والے اس افسوسناک واقعہ کی جانب ہے جس سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وہ حرکت کی ہے جس نے ملک کے سلامتی کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے اس طرح کے حرکت کی توقع تو کسی ان پڑھ کونسلر سےبھی نہیں رکھی جا سکتی جو قومی اسمبلی کے ایک سابق اسپیکر نے کی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس سے کوئی سروئے کار نہیں کہ انہوں نے کس کے کہنے پر یہ حرکت کی ہے کس سے وفاداری نبھانے کے لئے انہوں نے اپنے ملک کے حساس نوعیت کے معاملات کو تہنس نہس کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
مجھے بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس طرح کے سیاستدانوں کا سوائے سوشل بائیکاٹ کے ملکی عوام اور کر بھی کیا سکتے ہیں اس لئے میں تو انہیں اس طرح کے لوٹے اور بے ضمیر سیاستدانوں کے بائیکاٹ کے علاوہ اور کوئی مشورہ نہیں دوں گا۔ ایاز صادق جیسے سیاستدان اس طرح سے مخالفین کو بلیک میل کرنے کے لئے ملک کے حساس ترین ایشوز کو ہتھیار بنا کر یہ سوچ کر ان پر وار کرتے ہیں کہ مخالفین اس کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں گے کیونکہ ان کا جواب بھی ان کے مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا اس لئے وہ جواب نہیں دیں گے جس کے نتیجے میں ایاز صادق جیسے سیاستدانوں کی جیت ہو جائے گی۔ لعنت ہے اس طرح کی سوچ اور خیالات پر۔۔۔ جو محض اپنی جیت اور سیاست کے لئے ملک کے وقار سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے، ابھی نندن کا معاملہ اچھالا گیا اور اسے ایک بدنام جاسوس کلبھوشن کے ہم پلہ لانے کی کوشش کی گئی ایک طرح سے خیرسگالی کے جذبے کے تحت ابھی نندن کے رہائی کو دشمن کی بہادری ظاہر کرکے ایاز صادق نے نہ جانے کن لوگوں سے اپنی وفاداری یا پھر نمک حلالی کا ثبوت دیا ہے یہ ان تمام لوگوں کے سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے جو اس طرح کے سیاستدانوں کے ووٹرز ہیں اور ان کے پیچھے دوڑتے ہیں۔
میں عرض کر چکا ہوں کہ ملکی عوام تو اس طرح کے سیاستدانوں کا صرف سوشل بائیکاٹ ہی کر سکتے ہیں۔ باقی قانونی کارروائی کرنا تو حکومت کا کام ہے کہ وہ اس طرح کے ملک دشمن سیاستدانوں کے خلاف کس طرح کی قانونی کارروائی کرتے ہیں۔ کس کو غدار یا کس کو محب الوطن کہنا ہم لکھاریوں کا نہ تو یہ کام ہے اور نہ ہی ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم کسی کو غداری اور کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دیں اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والے نہ تو ملک کے خیرخواہ ہوتے ہ یں اور نہ ہی ملکی عوام کے۔۔۔
اب جس طرز پر ملکی سیاست چل رہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے اس وقت سب کے سب آپس میں ایک ہو گئے ہیں اور سب کا ایک ہی مشترکہ نعرہ اور ایجنڈا موجودہ حکومت خاص طور سے عمران خان سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے حالانکہ اصل معاملہ تو عمران خان سے نہیں بلکہ کسی اور سے ہے اور وہ تو صرف اور صرف اپنے خلاف ہونے والی نیب کی انکوائریوں سے تنگ ہیں وہ سب ان انکوائریوں کی روک تھام کے لئے ہی تو سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ان کے ووٹرز بے چارے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے محبوب لیڈر انہیں مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات دلانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان سیدھے سادھے لوگوں کو ابھی ان کے ان محبوب رہنماﺅں کی اصلیت کا علم نہیں انہیں نہیں معلوم کہ مولانا اور اچکزئی کے اثاثے بھی زرداری اور شریف برادران سے کچھ کم نہیں یہ سب کے سب اس حمام میں ننگے ہیں اور یہ سب اس وقت ایک دوسرے کو کاندھا دینے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں اور یہ سب مل کر اپنی جانب بڑھنے والی اس موت کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں جو نیب کے انکوائریوں کی شکل میں ان کی جانب بڑھ رہی ہے اسی وجہ سے اپوزیشن کا یہ نیا اتحاد بھی وجود میں لایا گیا ہے اور اس کے بعد سے جلسے جلوس اور عوامی اجتماعات کے منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے یعنی ایک بار پھر عوام کو ایندھن کے طور پر حکومت سے لڑنے کے لئے استعمال کرنے کے واسطے یہ بہروپیے عوام کے پاس آرہے ہیں جن کے مقابلے میں اور ان کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لئے خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ عوام کے پاس جانے اور جلسہ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ عمران خان نے اپنے اس مہم کی شروعات گلگت سے کردی ہے جہاں انہوں نے ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران علاقے کے ترقیاتی کاموں سے متعلق اہم ترین اعلانات کئے جس میں یونیورسٹی اور کالجوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ واضح رہے کہ گلگت میں بلاول زرداری پہلے ہی اپنی ٹیم کے ہمراہ جلسے کررہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ وہ اپوزیشن کے حملوں کا اسی طرح سے ٹھوک کر جواب دیں جس طرح سے اپوزیشن جلسے کی صورت میں حکومت پر حملے کررہی ہیں اب اس کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ کوئی صحیح ہے اور کون غلط۔۔۔؟ کون ملک اور قوم کا خیرخواہ۔۔۔؟ اور کون دشمنوں کا آلہ کار۔۔۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں