Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 51

سیاسی دنگل

لگ رہا ہے کہ وطن عزیز میں ایک بار پھر سیاسی دنگل ہونے جارہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے طوفانی سیاسی دورے شروع کردیئے۔ چوہدری برادران سے ان کی ملاقات کو بہت اہمیت دی جارہی ہے کہ اس سیاسی ملاقات کا پس منظر کیا ہے اور کس کی جانب سے اس ملاقات کو کروائے جانے کا اہتمام کیا گیا ہے کیونکہ چوہدری برادران عمران خان کے سب سے بڑے اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے گھر کے بھی غیر سرکاری ترجمان کا فرائض سر انجام دے رہے ہیں اسی وجہ سے آصف علی زرداری کی چوہدری برادران سے ملاقات کو مختلف زاویں سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کا آخر مقصد کیا ہے؟ اور کیا یہ ملاقات عمران خان کی حکومت کے لئے بہت بڑا پیغام نہیں ہے؟ اور کون یہ پیغام عمران خان کو دینا چاہتے ہیں ان کے مقاصد کیا ہیں؟ اس ایک ملاقات کے کئی رخ ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک تیر سے بہت شکار کھیلے جارہے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ سیاسی دانشوروں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد پاکستان پیپلزپارٹی کو مل چکی ہے جس کی وجہ سے آصف علی زرداری مختلف آپشن پر اس وقت کام کررہے ہیں۔ انہیں خود پاکستان مسلم لیگ ن کو بھی انگیج کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی میاں شہباز شریف سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک سیاسی کھچڑی ہے جو اس وقت پکائی جارہی ہے، پوری کی پوری اپوزیشن ہی اس وقت مصروف کردی گئی ہے، کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آرہی ہے۔
ملک کے مقتدر حلقوں کا آئندہ کا پلان کیا ہے۔ پاور گیم کھیلنے والے اقتدار کی باگ ڈور ماروائے الیکشن کس کو سونپنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ ایک غیر یقینی سی صورتحال اس وقت طاری شطرنج کی بساط بچھا دی گئی ہے فی الحال اشارے کناعیوں اور اثرات سے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مقتدر حلقوں کو بیک وقت بہت سارے چیلنجوں کا سامنا ہے وہ تمام پاور سیکٹرز کو اپنے دائرہ کار میںں رکھنا چاہتے ہیں مگر عدلیہ آنے والے سالوں میں ان کے لئے سب سے بڑی مشکل بن سکتا ہے اسی وجہ سے صدارتی نظام کے آپشن پر ہر طرح سے غور و خوض کیا جارہا ہے۔ فی الحال تو سابق صدر آصف علی زرداری کے طوفانی سیاسی دوروں نے ایک ہچل مچا دی ہے اور وہ دورے اور خود آصف علی زرداری ملکی و غیر ملکی میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے یہ ہی سوال پوچھتے ہوئے نظر آتا ہے کہ ملک میں کیا ہونے جارہا ہے۔ خاص طور سے مارچ کے مہینے کو تبدیلی کا مہینہ گردانا جارہا ہے۔ نہ جانے مارچ کے مہینے میں کیا عمران خان اسمبلیاں تحلیل کرنے جارہے ہیں اور نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہیں یا پھر صدارتی نظام کے لئے کوئی ریفرنڈم کروایا جارہا ہے۔ کچھ نہ کچھ ضرور ہونے والا ہے۔ حالات اور واقعات کچھ اسی طرح کے اشارے دے رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کو یہ کہنا پڑا کہ انہیں اب خود میدان میں اترنا پڑے گا۔ میں بالائی سطور میں اس خدشہ کا اظہار کر چکا ہوں کہ چوہدری برادران سے آصف علی زرداری کی ملاقات بہت ہی معنی خیز ہے اس سے قطع تعلق کہ یہ ملاقات بغیر کسی منصوبے یا ایجنڈے کے تحت کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اس ملاقات کو سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور اسے عمران خان کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ مسلم لیگ ن میں میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو تو کسی بھی قیمت اقتدار سونپنے کی غلطی نہیں کی جا سکتی، یہ ہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کے میاں شہباز شریف سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ مستقبل میں خود چوہدری نثار احمد کا کردار بھی بہت اہم ہونے جارہا ہے جو آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن اور مقتدر حلقوں میں برج کا کردار ادا کریں گے۔ فی الحال یہ ساری کی ساری سیاسی قیاس آرائیاں ہیں، پھر کہتا ہوں کہ اتنی ساری سیاسی کھچڑی پکنے کے باوجود صدارتی نظام کا آپشن موجود ہے اس لئے کہ اٹھارویں ترمیم عدلیہ کے معاملات کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ہینڈل کرنے کے لئے صدارتی نظام اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن گیا ہے جس پر تیزی کے ساتھ ہوم ورک مکمل کیا جارہا ہے اس لئے کہ مقتدر حلقوں کو سیاسی بلیک میلنگ کے نتیجے میں بعض نازک و حساس معاملات پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے جس سے وطن عزیز کو نقصان پہنچتا ہے اسی وجہ سے وہ بھی اس سیاسی بلیک میلنگ سے چھٹکارہ چاہتے ہیں۔
کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے، سیاسی دنگل ہونے جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں