Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 17

عمران خان بمقابلہ ڈی ایم جی گروپ؟

تکرار کے ساتھ پاکستانی عوام یہ سنتے آرہے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا؟ این آر او نہیں دوں گا؟ لیکن اس کے باوجود ہوتا سب کچھ اس کے برعکس ہی ہے۔۔۔ ہر وہ سیاستدان جو نیب زدہ ہے جو ملکی خزانے کو چونا لگا چکا ہے انہیں کسی نہ کسی طرح سے کسی نہ کسی فورم سے ریلیف مل ہی رہا ہے جس کی سب سے بڑی مثال شہباز شریف کی نہ صرف ضمانت پر رہائی ہے بلکہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینا بھی ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان ہیںجو ”این آر او نہیں دوں گا“ کا ورد کرتے ہوئے تھک ہی نہیں پا رہے ہیں اور میری طرح سے دوسرے کروڑوں پاکستانی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عمران خان کے این آر او نہ دینے کا آخر مطلب کیا ہے۔۔۔؟ کیا ان کے اس بیان یا فقرے میں سے نہ کو حدف کرکے پڑھنا چاہئے؟ اس لئے کہ جب جب عمران خان یہ بیان داغتے ہیں اس کے بعد ہی کسی نہ کسی کو ریلیف مل رہا ہوتا ہے۔ کیا امریکی سیاست کی طرح سے پاکستان کی سیاست میں بھی ویسا ہونا شروع کردیا ہے کہ ہر بیان کو اُلٹے معنوں میں لیا جائے ورنہ اس طرح ہر سیاسی ریلیف سے پہلے عمران خان کا این آر او دینے کا بیان سامنے نہیں آتا۔ آپ لوگ جب سے عمران خان برسر اقتدار آئے ہیں اس وقت سے ان کے اس طرح کے بیانات والے اخبارات نکالیں تو اس سے ایک روز بعد کے اخبارات میں کسی نہ کسی نیب زدہ سیاستدان کو ریلیف دینے کی خبر ضرور ملے گی۔ آخر یہ سب کچھ اتفاق تو نہیں؟ ضرور دال میں کچھ نہ کچھ کالا ہے مگر میں یہاں یہ بھی پوری دیانتداری کے ساتھ کہنے اور لکھنے پر مجبور ہوں کہ عمران خان روایتی سیاستدان نہیں ہیں انہیں دوسرے سیاستدانوں کی طرح سے مکر و فریب نہیں آتا۔ وہ ایک کھرے اور نڈر سیاستدان ہیں جو دل میں ہوتا ہے وہی ان کی زبان پر ہوتا ہے جس کا اعتراف ان کا بدترین دشمن ہی کرے گا لیکن اس کے باوجود جو کچھ میں اوپر تحریر کر چکا ہوں وہ بھی حرف بہ حرف درست ہےں تو پھر گڑبڑ کہاں ہے؟ اور کون ہے جو گڑبڑ کرکے عمران خان کی سیاسی پوزیشن کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اس بارے میں متفقہ طور پر یہ کہنا ہے کہ ملکی بیوروکریسی نے ایک طرح سے عمران خان کی حکومت کے خلاف محاذ قائم کرلیا ہے اور وہ اس وقت اپنی سازشوں کے ذریعے اپوزیشن کا کام آسان بنا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت عمران خان کی حکومت اور بیوروکریسی دونوں ایک پیج پر نہیں ہیں وہ عمران خان حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دیئے جانے والے ہر حکم پر حیل و حجت سے کام لے کر اسے کھڈے لائن لگا رہے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پرائس کنٹرول پر کام نہ کرنا ہے جس پر فردوس عاشق اعوان کا سیالکوٹ کی نوجوان خاتون اسسٹنٹ کمشنر صدف کے ساتھ تکرار کی ویڈیو پہلے ہی وائرل ہو چکی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح سے اس بیوروکریسی سے ریاست میں ریاست قائم کرلی ہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں وزیر اعلیٰ سے زیادہ با اختیار صوبے کے چیف سیکریٹری ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ڈی ایم جی گروپ میں زیادہ تر ٹرانسفر پوسٹنگ چیف سیکریٹری کی مشاورت کے بجائے خود سیاستدانوں کی مداخلت سے ہی ہوتے ہیں، چاہے کسی ڈسٹرکٹ میں ڈپٹی کمشنر کی پوسٹنگ ہو یا پھر کسی وزارت میں سیکریٹری کی۔ سب کی سب سیاستدانوں اور وزراءکی سفارشوں پر ہی ہوتی ہے اس لئے کہ وہ سب کسی نہ کسی سیاستدان کے رشتہ دار ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود کسی بھی ایک بیوروکریٹس پر کوئی مشکل آجاتی ہے تو کوئے کی طرح سے سارے بیوروکریٹس کائیں کائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
سیالکوٹ کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ ہونے والی ہتک آمیزی پر پنجاب کے چیف سیکریٹری کا ردعمل فوری طور پر آگیا تھا اور انہیں بیوروکریٹس کی عزت نفس کا بھی خیال آگیا اور جو ہزاروں لوگ صبح، شام ان بیوروکریٹس کی حرکتوں سے رسوا اور ذلیل ہوتے ہیں اس کے بارے میں چیف سیکریٹری پنجاب یا دوسرے بیوروکریٹس کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ بھی ان ہی کی طرح سے انسان ہیں خیر ذکر عمران خان کے این آر او دینے کا اور عملاً اس کے برعکس سب کچھ کیے جانے کا ہو رہا ہے اس صورتحال سے یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ناکام بنانے والوں میں بیوروکریسی بھی کھل کر سامنے آگئی ہے اور اپنا کاندھا اپوزیشن پارٹیوں کو دے کر عمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ملک میں جاری مہنگائی کے اس طوفان میں بڑا مرکزی کردار بیوروکریسی کا ہے اسی طرح سے نیب زدہ سیاستدانوں کو ریلیف دلانے اور عمران خان کو این آر او نہ دینے کے حوالے سے بدنام کروانے میں بھی بیوروکریسی کا ہی کسی نہ کسی طرح سے ہاتھ ہے۔ عمران خان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے سربراہان کو چاہئے کہ وہ بیوروکریسی کو نکیل ڈالنے کی کوشش کریں۔ طاقت کے اس بڑے محور کو ان کی حد میں رکھنے اور انہیں آقا کے بجائے ملازم ہونے کی سطح پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں اسی میں پاکستان اور اس میں بسنے والے 20 کروڑ پاکستانیوں کی فلاح و بقاءمضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں