Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 61

فرقہ واریت کے بادل اور کراچی

ایسے لگ رہا ہے کہ کراچی میں لسانی تفرقے کے خاتمے کے بعد اب اس خلاءکو دوبارہ سے مذہبی فرقہ واریت سے بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو کوئی اندھا بھی یہ ہی نتیجہ اخذ کرے گا جو سات سمندر پار بیٹھ کر میں اخذ کررہا ہوں۔ یہ سب کچھ امت مسلمہ اور پاکستان کے لئے نقصان دہ اور ملک دشمنوں کے لئے فائدہ کا باعث بن رہا ہے۔ میں اس طرح کی صورتحال کے پیدا ہونے یا کہے جانے کے اسباب پر بات کرکے معاملات کو مزید خراب کرنے کا باعث نہیں بننا چاہتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جوش خطابت میں وہ کہہ دیا گیا جو کہ نہ کہنا چاہئے تھا۔ میں اسے اتفاق یا پھر غلط فہمی کا نام دے کر ہی معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کروں گا اس لئے کہ یہ ایک بہت ہی حساس معاملہ ہے ایک اس طرح کا معاملہ جو با آسانی انسانی خون کی ندی بہانے کا سبب بن سکا ہے جس سے عالم اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس کی بربادی اور تباہی لائی جا سکتی ہے اور ایسا کرنے یا اس طرح کے معاملات کو ہوا دینے میں اسلام دشمن اور ملک دشمن بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ڈس انفارمیشن کے طور پر کہا جارہا ہے۔
میں کالم کے ابتداءمیں ہی عرض کرچکا ہوں کہ لسانیت کے زہر کے خاتمے سے جو خلاءکراچی میں پیدا ہو گیا ہے اس خلاءکو اب مذہبی فرقہ واریت سے پُر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے کہ لسانیت اور فرقہ واریت دونوں کا مسٹر مائنڈ کوئی ایک ہی ہے جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہے اور وہ پاکستان میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے تاکہ ملک میں انارکی پیدا ہو جائے اور لوگ غیر یقینی کیفیت میں مبتلا رہیں۔ وہی لوگ اب مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں جس کے مناظر پچھلے دنوں ہمیں کراچی میں دیکھنے کو ملے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر نکلے اور اسلام سے یکجہتی اور اس سے اپنا والہانہ محبت کا اظہار کیا، عوام کے اتنے بڑے جوشیلے مجمع کو دیکھ کر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی دنگ رہ گئے اور تمام حساس اداروں نے اپنے اپنے رپورٹوں میں یہ ہی مشورہ اور تجویز حکمرانوں کو دی کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے اس لئے کہ ملک فرقہ واریت کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس طرح کے چنگاری کو شعلہ بننے سے پہلے ہی بجھا دینے میں سب کی عافیت ہے۔ اس سلسلے میں کراچی کے سنجیدہ طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے لاءاینڈ آرڈر پر اس طرح سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کام نہیں ہو رہا
ہے جو اس طرح کے بڑے شہروں کا تقاضا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کراچی میں آنے والے واقعات پر اس تیزی کے ساتھ قابو نہیں پایا جاتا جو کہ پایا جانا چاہئے ان ہی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سندھ حکومت خود بھی کراچی کے معاملات میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی اور وہ کراچی کے معاملات کو سلجھانے میں کوئی زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتی اگر سندھ حکومت واقعی کراچی کے معاملات میں سنجیدہ ہوتی تو مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینے والا یہ واقعہ رونما ہی نہیں ہوتا لیکن سندھ حکومت کا اب تک کا کردار تماشائی والا ہی لگ رہا ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی حب ہے، کراچی کا امن اور اس کی بدامنی براہ راست ملک کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے اس لئے ملک دشمن قوتیں ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں کراچی کو ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں اس میں بھی کوئی شک و شبہ والی بات نہیں ہے کہ پاکستان کے حساس اداروں نے کراچی سے لسانیت کے زہر کو نکال کر شہر کو دوبارہ سے روشنیوں کا شہر بنا دیا لیکن شہر کراچی کو اب بھی اپنے حساس اداروں کی مداخلت اور ان کی توجہ کی ضرورت ہے اس لئے کہ شہر میں دہشت گردوں کی نرسریوں کے دوبارہ سے آباد کئے جانے کی اطلاعات گرم ہے اور اس کی تصدیق حال ہی میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے ہو رہی ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ دہشت گردوں کو دوبارہ سے ملک دشمنوں کے جانب سے دہشت گردی اور خون خرابے کا ٹاسک مل گیا ہے جس کی وجہ سے وہ دوبارہ سے سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ کراچی پر خاص طور سے توجہ دیں اس لئے کہ ملک دشمن قوتیں کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کے لئے مذہبی گروپوں میں غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں اور شہر کی پرامن فضا کو دوبارہ سے زہر آلود کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس سلسلے میں مختلف فرقوں میں بٹے مسلمانوں کو بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہئے کہ کفار ان مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لئے مسلمان کا خون مسلمان کے ہاتھوں بہانے کے رسوائے زمانہ طریقہ کار کو استعمال کررہے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ یکجہتی اور بھائی چارگی کا مظاہرہ کرکے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں یہ ہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں