پاکستان ”ہے“ اور ”تھا“ کے درمیان؟ 49

قانون کی حکمرانی کا خواب؟

پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی کی جنگ چل رہی ہے۔ ایک فریق سبکو قانون کے تابع لانے پر بضد ہے تو دوسرا فریق قانون کو گھر کی لونڈی اور قدموں کی ٹھوکر نہ صرف خیال کررہا ہے بلکہ اپنے عمل سے ایسا ظاہر کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے وطن عزیز کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں پر قانون کی حکمرانی کے مقابلے میں جنگل کا قانون رائج ہے۔ پورا ملک طبقاتی نظام، طبقاتی معاشرے اور طبقاتی غور و فکر میں بٹا ہوا ہے۔ کوئی اجتماعی سوچ، اجتماعی قانون، اجتماعی غور فکر نام کی کوئی شے ہی نہیں۔ جس کی وجہ سے ملک مسائلستان کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ ملک کا آئین سب کو ایک نگاہ سے دیکھتاہے مگر ملکی عوام اور ملکی ادارے اسی مقدس آئین کو اپنی اپنی نگاہ اور اپنی اپنی عینک سے دیکھ رہا ہے، کسی کو وہ لال، کسی کو ہرا اور کسی کو نیلا نظر آرہا ہے۔ یہ ہی وہ صورتحال ہے جو انسانی معاشرے کو جانوروں والے معاشرے میں بدلنے کا باعث بنتا ہے یعنی جنگل کے قانون کا۔۔۔؟ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔۔؟ طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں، یہ ہی جمہوریت کا پہلا سبق ہے اور اس پہلے ہی سبق کو پاکستان کی اشرافیہ ماننے کو تیار نہیں، وہ نہ تو جمہور کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اس سے جنم لینے والی جمہوریت کو۔
یہ وہ بیماری ہے جس سے اس وقت پورا ملک دوچار ہے جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہی اس وقت لوگ سراپا احتجاج ہیں، یہ تحریک یا عوامی غم و غصہ نہ تو کسی ادارے کے خلاف ہے اور نہ ہی ایسا کرنا کوئی غیر قانونی قدم یا پھر کسی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر لوگ حقیقی جمہوریت اور حقیقی آزادی چاہتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے اور اس کارخیر میں رکاوٹ کیوں ڈالی جارہی ہے، ایسا کرنے والے کیا حقیقی آزادی اور حقیقی جمہوریت کے خلاف ہیں، کیا وہ عناصر نہیں چاہتے کہ ملک کے 25 کروڑ عوام آزاد ہو جائیں اور انہیں جمہوریت کے ثمرات ملنا شروع ہو جائیں۔ کیا وجہ ہے کہ حقیقی آزادی کے اس تاریخی لانگ مارچ سے ایک کٹھ پتلی حکومت اتنی خوفزدہ ہے اگر اس عوامی تحریک کو روکنے یا دبانے کی کوشش کی گئی تو پھر یہ امام خمینی والے انقلاب یا پھر ترکی والے تاریخ ساز انقلاب کی صورت اختیار کر جائے گی اور پھر کسی کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ دونوں فریق ہوش کے ناخن لیں اور اپنا اپنا قبلہ درست کرلیں جو جس کی جگہ ہے وہ وہیں چلا جائے اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا سلسلہ بند کردیں۔
پہلے تو صرف آصف علی زرداری نے تاریخ ساز الفاظ کہے تھے کہ ہمیں مت چھیڑو ورنہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اب اس طرح کی کیفیت یا صورتحال میں 25 کروڑ پاکستانی مبتلا ہو چکے ہیں ان کی حالت بہت ہی جنونی ہو چکی ہے اور وہ کچھ بھی کر گزرنے والی پوزیشن میں آگئے ہیں اس وجہ سے اب وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ حالات سے سمجھوتہ کرلیا جائے۔ اس وقت کی ضد یا پھر انا مشکلات، پریشانی اور تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گی۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ملکی عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کا احترام کیا جائے، اگر ملکی عوام اپنے اداروں کی تکریم میں انہیں اپنے حد میں رہنے اور آئین کے تابع ہو کر کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے تو پھر اس میں حرج ہی کیا ہے۔
میں کسی سیاسی پارٹی کا ترجمان بن کر نہیں بلکہ ایک غیر جانبدار مبصرین کے اپنے خیالات کا اظہار کررہا ہوں کہ پچھلے 76 سالوں سے پاکستان میں یہ ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، اکثریت پر اقلیت حکمرانی کرتی چلی آرہی ہے، جس کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ ہوا، اب پاکستانی قوم باشعور ہو چکی ہے اور انہیں مزید ڈرایا دھمکایا یا پھر بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، اس وجہ سے پرانا کھیل کھیلنے والوں کو اب آئین کے تابع ہونا ہی پڑے گا اور انہیں مالک یا حاکمانہ ذہنیت کو ترک کرکے خود کو ملازموں کی صف میں لانا ہی پڑے گا کیونکہ پاکستانی عوام اب جاگ چکی ہے، انہیں اپنی طاقت اور اپنی اہمیت کا اندازہ ہو چکا ہے۔ قانون کی بالادستی میں پاکستان اور ان کے اداروں کی سلامتی اور بقاءمضمر ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی عوام افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے ان کے لئے مر مٹنے کو ہر آن تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں