پھر سندھ کارڈ۔۔۔ 30

ماں بولی۔۔۔ سب کی بولی

آج کل لوگ اپیلیں کررہے ہیں کہ کینیڈا میں آنے والی مردم شماری میں اپنی زبان کسی علاقائی زبان کے بجائے اپنی قومی (پاکستان کی) زبان اردو لکھوائیں مگر بعض حضرات کا اصرار ہے کہ وہ تو ”ماں بولی“ کو اپنی زبان درج کرائیں گے۔ یہ معاملہ نہ سیاسی ہے، نہ فرقہ وارانہ، نہ کسی صوبائی عصبیت کا اور نہ ہی ماں بولی کو زک پہنچانے کا، مسئلہ صرف یہ ہے کہ کینیڈا میں تمام زبانوں کو عزت دی جاتی ہے اور سب کا احترام کیا جاتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان سے آنے والے کینیڈین جو اردو بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں ان کی تعداد نسبتاً زیادہ یا یوں کہیے کہ نئی نسل کے مقابلے میں ان افراد کی اکثریت ہے جو اردو بولتے اور سمجھتے ہیں اور چونکہ مفاد عامہ کے تمام اداروں میں کینیڈینز کی سہولت کے مطابق ان کی زبان میں ہدایات جاری کرتے ہیں اور عوامی اداروں کے احکامات وغیرہ ان ہی کی زبان میں سمجھاتے ہیں اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ کینیڈا کی لائبریریوں میں تمام زبانوں کی کتب اور ڈی ویز فراہم کی جاتی ہیں جن کے لئے فنڈز کونسلیں جاری کرتی ہیں اور یہ سہولتیں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے فراہم کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر برامپٹن ڈاﺅن ٹاﺅن میں واقع لائبریری کے متعلقہ انچارج سے جب میں نے کہا کہ لائبریری میں اردو کی کتب اور ڈی ویز کی تعداد بہت کم ہیں اس کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے کہا کہ ان متعلقہ اشیاءکی ضروریات کے لئے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے جس کی سفارشات پر فراہم کی جاتی ہیں اس سلسلے میں اس کمیٹی کی جو رکن اس زبان کی کتب کی سفارشات کرتی ہیں وہ سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں۔ میں نے ان سے مل کر جب یہ بات ان سے کی تو انہوں نے میری بات بڑی خندہ پیشانی سے سنی اور کہنے لگیں کہ میرے دادا جن کا تعلق جالندھر سے ہے وہ بھی اردو کی کتابیں بڑی ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں کہ ایک زمانے میں پنجاب میں ذریعہ تعلیم اردو ہی تھا اور وہ مجھ سے اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ اردو کی نئی کتابیں لائبریری میں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دراصل لائبریریوں میں کتابوں کی فراہمی آبادی میں بولی جانے والی زبانوں کے تناسب سے کی جاتی ہیں یعنی جس زبان کے بولنے والے جس تعداد میں ہوں گے اسی لحاظ سے لائبریریوں کو ان کے لئے فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہ بات میری سمجھ میں یوں بھی آئی کہ ان خاتون نے کہا کہ صورت حال یہ ہے کہ نئی نسل اب اپنی مادری زبان کی جگہ اپنی زبان انگریزی لکھواتے ہیں لہذا ایشیائی زبانوں کی تعداد پر مردم شماری میں کم ہوتی جارہی ہیں۔ فنڈز بھی اسی تناسب سے گھٹتے چلے جارہے ہیں تو معاملہ کچھ یوں ہے کہ مادری زبان یا ماں بولی اپنی جگہ مگر ان لوگوں کو ان بزرگوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے جو انگریزی زبان پر عبور نہیں رکھتے اور دفاتر، اسپالوں اور دیگر عوامی جگہوں پر انگریزی میں لکھی ہدایات کو سمجھ نہیں سکتے، ان کیا ہو گا؟ یہ مسئلہ نہ آپس میں اختلاف کا ہے نہ ہی انا کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے ذریعہ اختلاف نہ بنایا جائے۔
پاکستان میں بولی جانے والی ساری زبانیں قابل احترام ہیں اور ہر زبان کو بولنے والے کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زبان بولے مگر ایک زبان ہوتی ہے ”لینگوفرینکا“ وہ زبان جسے سب سمجھ سکیں اور پاکستان میں یہ زبان قومی زبان ہے بلکہ وہ زبان ہے جس میں ہر شخص اپنا ماضی الضمیر ادا کر سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے۔
لہذا پاکستان سے ترک تعلق یا اس ملک کو اپنا وطن بنانے والے بیشتر لوگ انگریزی کو سمجھ نہیں سکتے لہذا ان کی خاطر اگر مردم شماری میں اپنی زبان اردو لکھوادیں تو آپ کی محرم زبان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایسے ہی جب ہم مادر وطن یا کسی خاتون کو ماں کہہ کر پکارلیں تو ہماری ماں اور ہمارے رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ یہ تو ایک عزت و احترام کا رشتہ ہے جو غیروں کو بھی اپنا بنا لیتا ہے۔ وہ حضرات جو پنجابی بولتے ہیں، ہمارے سر آنکھوں پر، یہ ہمارا پنجاب ہی تھا اور یہ پنجابی بولی ہی تھی جس نے اردو کو اپنی آغوش میں پالا اور اس کی پرورش کی تھی۔ اردو کی رگوں میں پنجاب کا خون دوڑ رہا ہے۔ اردو کے عظیم شعراءاقبال، فیض، مولانا ظفر علی، شورش کاشمیری، قتیل شفائی، سراج الدین ظفر، منیر نیازی، احمد فراز، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، ابن انشائ، ضمیر جعفری، ظمیر کاشمیری، کنور مہندر سنگھ بیدی، سمبھورام، گلزار، راجندر کرشن اور لاتعداد دیگر کا تعلق پنجاب سے تھا انہوں نے اردو کو گود لے کر اسے ناز و نعم سے پالا اور اسے اپنی آغوش میں لے کر پیار و محبت کے نغمے لکھے اور آج اردو ان کی مرہون منت ہے اور پنجابی زبان کی چاشنی اس کے جسم و جاں میں بسی ہوئی ہے لہذا اگر ہم بھی آج اس کو اپنی زبان کہتے ہیں تو اس سے ”ماں بولی“ کی حق تلافی نہیں ہوتی مگر جب آپ اپنی مادر زبان پنجابی لکھواتے ہیں تو اس کا مطلب یہاں ”گورمکھی“ سمجھا جاتا ہے جس کی تحریر آپ سمجھ نہیں سکتے اور نہ وہ ہمارے بزرگ جنہوں نے ہمیں اور اردو کو گودوں میں کھلایا لہذا آج پھر اردو آپ کی مدد چاہتی ہے اسے اپنی زبان کہیے اور لکھوائیے۔
اللہ آپ کی ماں بولی کو بھی سلامت رکھے اور اس کی سہیلی اُردو کو بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں