کینیڈا کی مردم شماری، ایک بھاشا اور لِپّیوں کا قضیہ 89

کورونا، وبا، روشنی کی کرن، خدشات

تقریباً ایک سال سے ہم، آپ اور ساری دنیا ایک تاریخی وبا کا شکار ہیں۔ یہ وبا انسانی تاریخ کی چند بھیانک وباﺅں میں سے ایک ہے۔ موجودہ وبا میں گزشتہ دس ماہ میں تقریباً چھ کروڑ لوگ اس کا شکار ہوئے۔ جن میں سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ وفات پاگئے، اور تقریباً ساڑھے چھ کروڑ صحت یاب ہو سکے۔ اس وقت بھی تقریباً دو کروڑ زیرِ علاج یا زیرِ نگرانی ہیں۔ حیران ک±ن طور پر اس کے سب سے زیادہ شکار افراد امریکہ میں ہیں جو دنیا کا سب سے ریئس اور ترقی ےافتہ ملک سمجھا تا رہا ہے۔ لیکن وہاں پالیسیوں کا فقدان اور امیر غریب کا فرق اس کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ اس میں صدر ٹرمپ کی میں نہ مانوں کی رٹ اور امریکہ کے مذہبی طبقات کا سائنسی حقیقتوں کا انکار بھی شامل ہے۔
جب تک اس مرض کے خلاف کوئی ٹیکہ یا دوا تیار نہ ہو جاتی، یہ لازم تھا کہ سب شہری مل کر بقائے باہمی کی کوششیں کرتے۔ لیکن امریکی صدر اور ان کے مذہبی قدامت پرست حامی تمام احتیاطوں کو رد کرتے رہے ہیں۔ جن میں ایک دوسرے سے دور رہنا، منہ پر طبی نقاب پہننا، اور بھیڑ بھاڑ سے بچنا شامل ہے۔ جہاں جہاں یہ تراکیب سختی سے استعمال کی گئیں وہاں اس مرض پر کچھ قابو پایا گیا۔ جس کی سب سے بڑی مثال چین کی ہے، جہاں قیاساً یہ مرض شروع ہو ا تھا۔ انہوں نے بہت جلد سخت گیری اختیار کرکے مرض کے پھیلاﺅ کو محدود کیا۔
امریکہ اور دیگر جمہوری ممالک میں انفرادی آزادیوں پر بہت زور ہے، اور وہ کسی بھی حکومتی سخت گیری کو سخت ناپسند کرتے ہیں، اور ایسی قدغنوں کو اعلانیہ توڑتے ہیں۔ ایسا ہی بعض دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ جن میں پاکستان جیسے پسماندہ ممالک بھی شامل ہیں، جو قدامت پرستی، وسائل کی کمی ، غربت ، وبا کو اور موت کو مقدر جاننے کی ذہنیت رکھے ہیں، اور احتیاط پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے لوگوں کو مذہبی رکھوالے بھی شہہ دیتے ہیں۔
ان سب تلخ حقائق کے باوجود، دنیا بھر کے سائنسداں، اور ڈاکٹر انسانی جان کی حفاظت کو ایک انسانی فرض جان کر اس وبا کے علاج کی حیرت انگیز دوڑ میں شامل ہوئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامی اقدام اور صحت عامہ کے مقتدر اداروں کی منظوری سے اس وبا کے دفاع کے لیئے کچھ ٹیکے ایجاد کر سکے۔ ان میں اب تک ایک اہم ادویہ ساز کمپنی ، فائزر، Pfizer پیش پیش ہے۔ اس کا دریافت کردہ ٹیکہ آج برطانیہ کی ایک عمر رسیدہ خاتون کو لگایا جا چکاہے۔ اب خیال ہے کہ یہ جلد ہی ملکہ برطانیہ اور ان کے خاوند کو بھی لگایا جائے، جن کی عمریں چورانوے اور نناوے سال ہیں۔ اسی طرح معاشرے کے معروف افراد کو بھی یہ ٹیکہ لگایا جائے گا تاکہ عوام کو اس کی ترغیب ہو۔
امریکہ ،برطانیہ، اور کینیڈا جسیے ممالک نے اب تک تقریباً تین مختلف دوا ساز اداروں کو کروڑوں کی تعداد میں پیشگی آرڈر دیئے ہیں۔ قیاس ہے کہ دسمبر اور جنوری تک ان ممالک میں لاکھوں افراد کو یہ ٹیکے لگائے جایئں گے۔ ساتھ ہی ساتھ ، بھارت، چین، اور روس ان ٹیکوں کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ کٹھن مقابلہ ہے۔ اس کا اندازہ یو ں کیجیے کہ صرف چین اور بھارت میں تقریاً ڈھائی ارب افراد بستے ہیں۔ اس سے آپ اس عمل کو درپیش مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
ایک او ر مشکل ان ٹیکوں کو محفوظ رکھنے میں ہے۔ فائزر، کے دریافت کردہ ٹیکے کو منفی ستّر سنٹی گریڈ پر رکھنا لازم ہے۔ اس کے بعد یہ عام ریفریجریٹر میں صرف پانچ دن محفوظ رہ سکتا۔ بعض دیگر ٹیکے جو ابھی منظور نہیں ہوئے ہیں، اس سے کم درجہ حرارت پر رکھے جاسکتے ہیں۔ درجہ حرات کی یہ ضرورت ان ٹیکوں کی نقل و حمل کو بھی دشوار ترین بناتی ہے۔
ایک اور ہمالیہ پہاڑ ان ٹیکوں کی حالیہ قیمت ہے، جو بیس ڈالر پر ٹیکہ ہے۔اگر یہ پاکستان کے بیس کروڑ شہریوں کے لیئے حاصل کیا جائے تو اس کی لاگت اربوں ڈالر میں ہو گی۔ بعض نئے ٹیکوں کی قیمت دو سے چار ڈالر بھی ہو سکتی ہے۔ پھر بھی غریب ممالک کے لیے مجموعی طور پر یہ ایک ناقابلِ برداشت رقم ہو گی، اور انہیں کسی نہ کسی طرح اس کا بندوبست کرنا ہوگا۔ لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ شروع میں آبادی کے سب سے زیادہ ضرورت مند طبقہ کو یہ ٹیکے دیئے جایئں۔
ایک اور مشکل ان ٹیکوں کے بارے میں غیر ضروی حقیقت افواہ سازی ، جھوٹی خبریں، اور افترا انگیزی ہے۔ ہم ان مشکلات کو پاکستان جیسے ممالک میں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ جہاں پولیو کے ٹیکے کے مخالفین، ٹیکہ لگانے والے کارکنوں کو جان سے مار دینے کی دھمکی دیتے رہے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ امریکہ جیسے ممالک میں بھی ہے جہاں قدامت پرست طبقے سایئنس کو نہیں مانتے۔۔
ہم انسانی جذبہ کے تحت ہر شخص کو مشورہ دیں گے کہ جیسے ہی یہ ٹیکے دستیاب ہوں لگو ا لیئے جایئں۔ ہمیں فکر دنیا کے سب سے امیر ملک امریکہ کی ہے جہاں ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک کو یہ ٹیکہ مفت ملے۔ یہی فکر ہمیں غریب ممالک کے بارے میں بھی ہے جہاں ان کی پسماندگی، غربت، جہالت، اور قدمت پرستی ان کی دشمن ہے۔
ہم نے اپنے عنوان میں کہا کہ اس وبا میں ٹیکوں کی شکل میں روشنی کی کرنیں پھوٹی ہیں۔ اور چند ماہ یا سال میں ہم سب مکمل طور پر محفوظ ہو پایئں گے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم کینیڈا میں رہتے ہیں جہاں ایک مہنگا ٹیکا بھی ہمیں مفت ملے گا۔ اور ہم سائنس پر یقین رکھتے ہوئے فوراً لگوا لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں