165

کڑوا سچ

جس نے حرکت کی انہیں سزا نہ ملی اور جس نے صرف خواہش کا اظہار کیا وہ جیل جا پہنچے۔۔۔۔
شہری وزیرنی نے معافی دی، دیہی وزیرنی نے جعلی کیس بنوائے۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ انسانی جبلتوں میں بھوک اور پیاس کی بڑی اہمیت ہے لیکن سب سے زیادہ خطرناک جبلت ہے سیکس کا۔ جو اس کا شکار ہوا وہ گیا۔۔۔ بھوک اور پیاس کئی دنوں تک برداشت کی جا سکتی ہے لیکن دماغ میں جب شیطان گھس جائے تو پھر نتائج کی کوئی پرواہ نہیں کرتا چاہے جان کیوں نہ چلی جائے، اور تاحال ہزاروں، لاکھوں جانیں ضائع بھی ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی انسان کو اس کی پرواہ نہیں، جہاں موقع ملا واردات کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ انسان میں اگر سیکس کا عنصر نہ ہوتا تو شاید دنیا میں اتنی گڑ بڑ بھی نہ ہوتی لیکن انسان ذات کی تخلیق کیسے آگے بڑھتی یہ بہت بڑا سوال بھی ہے؟؟
یہ آٹھ نو سال پرانی بات ہے جب ایک خاتون وزیر سندھ سیکریٹریٹ میں اپنے دفتر آتی رہتی تھی جہاں پر اپنے محکمے کے معاملات چلانے کے ساتھ عوام اور پارٹی ورکرز سے میل ملاقات میں رہتی تھی۔ سندھ سیکریٹریٹ کے گراﺅنڈ فلور والے دفتر کے برابر میں سرکاری افسر کا بھی دفتر تھا۔ محترمہ جب بھی دفتر آتی اس کو پڑوسی سرکاری افسر کا گن مین اکثر و بیشتر گھورتے رہتے۔ باریک لباس میں ملبوس ہوکر جب خاتون وزیر اس گن مین سے گذر کر اپنے دفتر کا دروازہ کھول کر داخل نہیں ہوتی تھی تب تک وہ سپاہی انہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہتا تھا اور وہ اپنے دل ہی دل میں ڈھیر سارے خیالی پلاو¿ پکاتے رہتے۔ خدا کی قدرت ایک دن خوبرو خاتون وزیر جیسے دفتر سے باہر نکلی تو ان کے دو گن مین اس وقت ان کے دفتر سے تھوڑے دور تھے۔ خاتون جلدی میں تھیں اور بغیر گن مین کے کمرے سے نکل کر باہر گاڑی کی طرف جانے لگی تو راستے میں جیسے ہی اس عاشق سپاہی کے قریب پہنچی تو وہ بھوکے شیر کی طرح وزیر صاحبہ پر ایسے جھپٹے جیسے نیشنل جاگرافک چینل میں ہرن کا حشر دیکھتے ہیں۔کئی ماہ سے آنکھوں سے واردات کرنے والے اس سپاہی نے پہلی بار ایسی جھپی ماری کہ خاتون بیچاری بری طرح پھنس گئی اور وہ سپاہی کبھی ایک گال کو چومتا تو کبھی دوسری طرف منہ سے مزے لوٹنے لگے۔۔۔ اس ہونے والی کاروائی کا لائیو کوریج کئی ملازمین دیکھنے لگے اور تعجب میں پڑ گئے کہ کیا ہورہا ہے ؟؟؟، ان کو یقین نہ آئے کہ یہ اوریجنل سین ہے یا عمران ہاشمی کی کوئی فلم چل رہی ہے۔اسی اثناءمیں خاتون وزیر کے گارڈ بھی پہنچ گئے اور انہوں نے نمک حلالی کرتے ہوئے اپنے پٹے بھائی پر چڑہ گئے، لاتوں مکوں سے اپنی صاحبہ کی جان چھڑائی۔جب تک خاتون اس جنگلی جانور کے چنگل میں رہی تو کہتی رہی، چھوڑو چھوڑو، نہیں کرو نہ، پاگل چھوڑ نہ۔۔۔ اتنی بڑی کاروائی ہونے پر کچھ تماشائیوں نے خاتون وزیر سے پوچھنا شروع کردیا کہ میڈم۔۔۔ سپاہی کی ہمت کیسے ہوئی اس طرح کی حرکت کرنے کی؟؟!!! اس پر وزیر صاحبہ کہنے لگی کہ پاگل ہے، بیوقوف ہے، خوامخواہ گلے میں پڑ گیا۔۔ جب تک گاڑی میں چڑھ کر وہ سوار ہوجائے تو ایک صحافی صاحب بھی پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ میڈم،، کون تھا یہ شخص؟؟ دماغ خراب ہے کیا جو آپ سے اتنی بدتمیزی کی؟!! طبیعت کو گرمانے والے صحافی کے سوال کے باوجود اس معصوم سی وزیرنی نے کہا کہ نہیں نہیں، کچھ نہیں ہوا، یار تم لوگ خبر مت چلانا،۔۔ بیوقوف لوگ ہیں پتا نہیں کیسے بھرتی ہوگئے۔۔۔!!!! پڑھی لکھی اس شہری خاتون نے اس دن جس بردباری کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی کیونکہ ایسے معاملات میں کوئی بھی عام خاتون ہوتی وہ قیامت برپا کردیتی، پولیس والے تو اسے مار مار کر پسلیاں توڑ دیتے، ساتھ میں سیکریٹریٹ کے ملازمین بھی ایسی مالش کرتے کہ سپاہی کے سات نسلیں یاد کرتے۔
سائین قائم علی شاہ کی کابینہ کی ایک اور وزیر کے پیچھے بھی عاشق پڑ گیا انہوں نے خاتون وزیر پر قسمت آزمانے کی کوشش کی اور بیمار دل کا حال احوال بتانے کے لیے خاتون محبت بھرے میسیج کیے۔۔۔ سیکس کی جبلت میں پھنس جانے والے اس عاشق کے میسیجز کے پہنچنے کی دیر تھی بس اور پھر ان کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی۔۔کراچی ڈیفنس میں ان کے خلاف اغوا، تاوان اور دیگر سنگین جرائم کے پرچے پر پرچہ کٹنے لگا اور وہ بیچارا عاشق پولیس کے ہتھے چڑھا تو پولیس نے خوب اس کی درگت بنائی۔ پولیس نے جب اپنا فرض پورا کیا پر اس عاشق نے انہیں بھی خوب سنایا۔ پولیس والے انہیں جیسے چھیڑتے وہ اپنے دل کے دکھڑے سناتے۔ عاشق بیچارے کا کہنا تھا کہ خاتون وزیر شوہر سے فارغ التحصیل ہوگئی ہیں، میں تو زیرو میٹر ہوں، میں اس کے لیے قربانی دے رہا ہوں، اس میں میرا گناہ کیا ہے؟؟ مجھ میں پھر بھی ہمت ہے کہ وزیر صاحبہ کو اپنے درد دل کی دوا مانگی، آپ میں تو اتنی ہمت بھی نہیں کہ جعلی مقدمات درج کرنے سے انکار کرسکو۔۔ تم اگر کیس کرنا چاہتے ہو تو لکھو کو میں مجنوں ہوں، میں نے محترمہ سے اظہار محبت کیا ہے، یہ پرچہ دو نہ۔۔؟؟ جھوٹے پرچے کیوں کاٹ رہے ہو؟!! خیر کافی دن پولیس کا مہمان بننے والے مہان عاشق کو جیل بھیج دیا گیا لیکن جیل سے بھی وہ اپنے دل کی کیفیت کے خطوط لکھتا تھا اور اس وقت سائبر کرائم پاکستان میں نہیں پہنچا تھا۔ اس بات کو کئی سال گذر گئے ہیں، کچھ پتا نہیں کہ وہ زیرو میٹر عاشق کس حال میں ہے۔۔ میرا دل کرتا ہے کہ اس عاشق کو تلاش کروں اور زبردست انٹرویو کروں اور پوچھوں کہ اس پر عشق کا اثر برقرار ہے یا نئے پاکستان میں تبدیلی آنے کے بعد ان کا دل تبدیل ہوا کہ نہیں۔۔۔۔
خاتون وزراءکے ساتھ ہونے والے واقعات میں دو دلچسپ پہلو ہیں، پہلے خاتون کو جس نے جھپی لگائی اور منہ میٹھا کرتا رہا اس گن مین کو اسی دن ہی خاتون وزیر نے معاف کردیا کیونکہ سپاہی کے باس اپنے گن مین کو معافی دلوانے کے لیے لیکر گئے تھے اور جب انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے ذہن پر برا اثر ہوا جس وجہ سے اس نے غلط قدم اٹھایا، شہری وزیرنی نے ان کی معافی پر گستاخی کو درگزر کردیا لیکن دوسرے کیس میں جس شخص نے شادی کرنے کے لیے خاتون وزیرنی کو محبت والے میسیجز بھیجے تو دیہات سے تعلق رکھنے والی وزیرنی نے ان پر جھوٹے مقدمات درج کراکے جیل بھجوادیا۔ان دو الگ الگ واقعات سے میں سمجھتا ہوں کہ شہروں میں برداشت کا عنصر برقرار ہے جبکہ دیہات میں جذبات و غیرت برداشت پر حاوی ہیں۔ میں کسی بھی طرح ان دو خاتون وزراءکے ساتھ ہونے والے ان واقعات کے حق میں با الکل بھی نہیں ہوں بلکہ جو لوگ محافظین و ملازمین پالتے ہیں انہیں سب سے پہلے ایسے لوگوں کی ذہنی کیفیت کو ضرور چیک کرنا چاہئے کیونکہ پسماندہ اور بیمار ذہنیت والوں سے کوئی اچھی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ زندگی اور عزت کا ہو تو اسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ زندگی اور عزت کا کوئی نعمل البدل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں