Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 50

گڑ بڑ کہی۔۔۔؟

وطن عزیز کی صورت حال معیشت کے بعد اب سیاسی لحاظ سے بھی ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ایک غیر یقینی کیفیت ہے جو ختم ہونے کے بجائے تیزی کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے اور کوئی بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ تبدیلی سرکار کی یہ حکومت اور کتنے روز چلے گی یا اور کتنے دنوں کی مہمان ہے۔ خود وفاقی وزراءبھی ایک دوسرے سے یہ پوچھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اور کتنے روز وہ جھنڈے والی گاڑیوں میں پولیس کی یلغار کے ساتھ ادھر سے ادھر جا سکیں گے۔ غرض ایک افراتفری سی پیدا ہو گئی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک میں ریکارڈ حد تک مہنگائی ہو چکی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ ایک الگ سوال اور بحث ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کے دور میں ہی مہنگائی کے پہاڑ ان پر گرائے گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون۔۔۔؟ اس سے عوام کو کوئی سروکار نہیں۔ عوام تو تبدیلی کے لالچ میں اس پارٹی کو اقتدار تک لائی تھی لیکن تبدیلی سرکار سے تو روح اور جسم کے فاصلے بھی کم کرنے کے بجائے اور بھی بڑھا دیئے ہیں۔ اس وجہ سے عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف بہت ہی زیادہ غم و غصہ پایا جاتا ہے جسے دُور کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اسے دور نہ کرنے کی وجہ سے اس کا الٹی میٹلی فائدہ پارٹیوں کو پہنچ رہا ہے ان کا گراف ایک بار پھر عوام میں بڑھتا جا رہا ہے جس کا زندہ ثبوت آصف علی زرداری کا بیٹے بلاول زرداری سمیت طویل عرصہ تک پنجاب میں ڈیرے لگانا ہے۔ آخر وہ پنجاب میں کیا کرنے آئے ہیں جہاں ان کی نمائندگی زیرو رہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود ان باپ بیٹوں کو کون سی قوتوں نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ پنجاب سے اپنی نمائندگی بڑھائے اور تبدیلی سرکار کو ایک دھکا اور دو کی خاموش تحریک میں شامل ہو جاﺅں۔
آئندہ باری تمہارے آنے والی ہے ان ہاﺅس تبدیلی کے لئے بھی حالات سازگار کہے جارہے ہیں یعنی کچھ نہ کچھ اس طرح سے ہونے جارہا ہے جس سے صورت حال یکسر تبدیل ہو جائے گی اسی طرح کے خدشات کو دور کرنے یا پھر اپنی حکومت کے خلاف کسی بھی طرح کے ریشمی جال بُننے والوں کے لئے ہی عمران خان نے ایک انتہائی زومعنی اور خوفناک بیان دیا ہے کہ وہ اپوزیشن میں جانے کے بعد پہلے سے زیادہ خرناک ہو جائیں گے یہ بیان سے زیادہ توپ کا گولہ تھا جو ان ہی لوگوں پر جا کر گرا جو یقیناً اس طرح کے کوئی اسکرپٹ لکھنے کی تیاریاں کررہے تھے۔
اس خوفناک بیان کے بعد خود میں یک کھلبلی مچ گئی کہ آخر وزیر اعظم عمران خان کو اس طرح کے موقع پر اس طرح کے بیان داغنے کی ضرورت یا نوبت کیوں پیش آئی۔۔۔؟
یقیناً ملک کے اندرونی حالات نارمل نہیں ہیں۔ بہت خوفناک قسم کی خاموشی ہے جو بہت ہی بھیانک اور بڑے طوفان کے آثار بتلا رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے اس زومعنی بیان کے بعد چوہدری شجاعت کا ردعمل میں بیان کا آنا اور اس کے بعد خود آرمی چیف کا آئی ایس آئی چیف کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرنا یہ سب کا سب معنی خیز ہے۔ آخر کچھ تو ہو رہا ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے، کوئی تو ایسا اہم پیغام ہے جو عمران خان کو پہنچا دیا گیا ہے اس کے فوری بعد کراچی میں ایم کیو ایم کا حکومت مخالف تحریک میں شامل ہو کر کراچی کے پرامن حالات کو خراب کرنا یا کروانا، آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
کرپشن کی انتہائی تباہ کن صورتحال کے باوجود وہ کون ہے؟ جو اس وقت پیپلزپارٹی کو بکھیرنے کی بجائے اسے مزید مستحکم کرنے کی ضد میں لگا ہوا ہے۔ اقتدار یا پھر چہرے کی تبدیلی کے لئے بہت ہی خوفناک کھیل کے لئے شطرنج کی بساط بچھا دی گئی ہے اور اس پر مہروں کے ذریعے کھیل شروع کروا دیا گیا ہے جو بھی کچھ کیا جا رہا ہے؟ اس میں بدقسمتی سے مملکت خداداد پاکستان اور اس کے رہنے والے 23 کروڑ عوام تو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے اور پاور گیم ریاست کے اسٹیک ہولڈر ہی آپس میں کھیل رہے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ اب اقتدار کی باگ ڈور کس کے ہاتھوں میں آرہی ہے یا کسے یہ باگ ڈور دلوائی جارہی ہے۔ جمہوریت، عدلیہ اور دوسرے سارے اداروں کا کردار خاموش تماشائی سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد پاکستان کو ”بنانا ری پبلک“ کہنا غلط ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں