Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 35

گیم یا دھوکہ۔۔۔!

پاکستان سے افغانستان میں امن قائم کرنے کا مطالبہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے افشاءہونے کے بعد بے معنی ہو جائے گا جس میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اس تحریک پاکستان طالبان گروپ کے 6 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں جو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بعض دوسرے حساس مقامات پر جا کر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے اور اس طرح کی خبر کہ جس کا علم کسی اور کو ہو یا نہ ہو لیکن دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کو ضرور ہو گا اور انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ان دہشت گردوں کو کن ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ کون ان کی فنڈنگ کررہا ہے؟ اور کون انہیں جدید اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے۔۔۔؟
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان امریکہ کی درخواست پر افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے جب کہ پاکستان کے اس من کے کردار کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہی تحریک پاکستان طالبان نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتیں شروع کروا دی ہیں جن میں اسٹاک ایکسچینج کی دہشت گردی کی واردات بھی شامل ہے جس میں پولیس اور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے چاروں دہشت گرد مارے گئے تھے گرچہ دہشت گردی کی یہ واردات بلوچستان لبریشن آرمی نے کی تھی یا پھر ان پر اس واردات میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور انہیں بھارتی تخریب کار ایجنسی ”را“ کی مکمل حمایت حاصل ہے لیکن ان دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ تحریک طالبان پاکستان کی حاصل تھی۔ دوسرے معنوں میں وہ بھی دہشت گردی کی اس واردات میں براہ راست طور پر ملوث تھے اور دہشت گردی کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے چل ہی رہا ہے اس سلسلے میں یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ خود افغان حکومت اور ان کی حساس ایجنسی این ڈی ایس کے تعاون یا ان کی سرپرستی کے بغیر تحریک طالبان پاکستان کے اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد افغانستان میں رہ ہی نہیں سکتے۔
اس نئی تبدیل شدہ صورتحال کو دیکھ کر تو یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ خود افغان حکومت ہی اپنے ملک میں قیام امن کے خلاف ہے۔ حکومت خود ملک میں بدامنی چاہتی ہے تاکہ امریکی فوج کو وہاں ڈیرے جمانے کا جواز مل سکے اور ان کی آڑ میں افغان حکومت کی بیرونی فنڈنگ جاری رہے۔ یہ ایک اس طرح کی اطلاع ہے کہ جس سے دنیا کا سپرپاور امریکہ بھی لاعلم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ان کے خفیہ ادارے۔۔۔ جس کے بعد امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل کی قطر میں موجود طالبان رہنماﺅں اور خود پاکستان کے سیکورٹی حکام سے ملاقاتیں بھی بے معنی یا سوائے خانہ پری کے اور کچھ بھی نظر نہیں آتی۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اس طرح سے کرکے کسے دھوکہ دے رہے ہیں، خود کو یا دوسروں کو۔۔۔ کیوں کہ ایک طرف سے تو وہ خود پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے اس کے حساس علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتیں کروا رہے ہیں اور دوسری جانب پاکستان سے افغانستان میں قیام امن کے لئے زور بھی دیا جارہا ہے اس طرح سے کرکے بھی وہ ایک ایسا تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے افغانستان میں بدامنی اور لاقانونیت کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود پاکستان ہی ہے حالانکہ یہ بات جھوٹ اور غلط ہے اور اس طرح سے کرکے پاکستان کو گھیرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ ایک خطرناک ڈپلومیسی پاکستان کے ساتھ کی جارہی ہے، دوسرے معنوں میں دہشت گردوں نے ڈپلومیٹ کا لباس پہن لیا ہے بالکل اسی طرح سے بغل میں چھری منہ میں رام رام کے کہاوت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور اس ساری کارروائی میں پاکستان کے خلاف ایک ٹرائیکا نظر آرہا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت نے عمران خان کی قیادت میں ایک موثر ترین خارجہ پالیسی کو اپناتے ہوئے جہاں بھارت کا گناہ آلود چہرہ دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرکے بھارت کو ریاست کی حیثیت سے ایک دہشت گرد ملک متعارف کروایا وہیں انتہا پسند ہندوﺅں کے مظالم سے بھی دنیا کو آگاہ کیا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار ملک اپنے ہی ملک کے جمہور ک ے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے۔ عمران خان نے اپنی دو سالہ حکومت کے دوران بھارت کو خارجی معاملات میں اتنا نقصان پہنچایا کہ ماضی میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی اسی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کرنے کے لئے ٹرائیکا نے تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کروادیا گیا ایک طرف سے پاکستان کو امن معاہدے میں معروف کیا جارہا ہے اور دوسری جانب سے خود پاکستان کے سلامتی کو چیلنج کرتے ہوئے دہشت گردی کی وارداتیں شروع کروا دی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور خود پاکستان کے سلامتی کے ذمہ دار پالیسی میکروں کو چاہئے کہ وہ جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیتے ہوئے دشمنوں کے ارادوں اور ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے اقدامات کریں۔ ڈپلومیسی کا جواب ڈپلومیسی سے دیتے ہوئے اپنے اہداف مکمل کریں۔ دشمن بہادر سے زیادہ چالاک اور مکار ہے اس لئے انہیں خود ان کے حربوں سے زیر کرنا ہوگا تب ہی وہ راہ راست پر آئیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں