روس عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیدیا گیا تو مشکل میں افغانستان آگیا، کیا سامری جادوگر کی جان طوطے مینے یا کبوتر کی طرح کہیں افغانستان میں تو نہیں ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوا ہے تو سب سے پہلے بلا کسی شواہد کے اسے افغانستان سے براہ راست یا پھر بالواسطہ طور پر جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے خاص طور سے امریکہ میں ہونے والی وارداتوں کو تو خاص طور سے افغانیوں کا بھی کارنامہ سر انجام دیا جاتا ہے میں یہ لکھ کر یا پھر کہہ کر ہر طرح کی وارداتوں سے افغانیوں کو نہ تو مبرا کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی انہیں کوئی کلین چٹ دینا چاہتا ہوں، اچھے برے ہر جگہ ہر قوموں اور مذاہب میں ہوتے ہیں۔ سارے کے سارے نہ تو فرشتے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ابلیس۔۔۔۔ اس وجہ کسی اور کی مخالفت اور نفرتوں کا شکار کسی دوسرے کمزور کو نہیں بنانا چاہئے افغانستان ایک تباہ شدہ ملک تھا اور ایک بہت بڑے عرصے بعد وہاں امن و امان کی صورتحال لوٹ کر آئی ہے جس پر اقوام عالم کو افغان حکومت کا نہ صرف شکر گزار ہونا چاہئے بلکہ افغانستان کی تعمیر نو میں اس کی دل کھول کر مدد بھی کرنی چاہئے یہ ہی الزام عرصہ دراز سے افغانستان پر تھوپا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور اس الزام میں کسی حد تک صداقت بھی تھی کہ کس طرح سے بڑے ایمپائر کے ٹکڑے کرنے کے لئے جہاد کے نام پر افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا گیا اسے میدان جنگ بنایا گیا مگر اب موجودہ افغان حکومت نے جب اپنی سرزمین کو کسی بھی لحاظ سے دوسروں کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کیا یعنی امریکہ کو ایئربیس دینے سے انکار کردیا تو اس کے بعد سے افغانستان سب کو بری طرح سے کھٹکنے لگا ہے ہر کوئی اسے حقارت سے دیکھ رہا ہے افغان حکومت نے اپنی خودمختاری پر کسی بھی طرح سے سمجھوتہ نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا تو اس کے بعد افغانستان پر ایک غیر اعلانیہ جنگ مسلط کروادی گئی غرض ہر طرف سے اسے بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تاکہ وہ امریکہ بات مان لے اور اسے ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دے یعنی افغانستان کی سرزمین روس اور چین کے خلاف استعمال کی جا سکے آفرین ہے افغان حکومت کی بہادری اور ان کی دلیری اور ثابت قدمی پر کہ وہ وقت کے فرعونوں کے آگے ڈٹ گیا اور عمران خان کی طرح سے انہوں نے بھی امریکہ کو دھتکار دیا اور اس کے بعد سے انتقامی کارروائیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے دراصل امریکہ اور یورپ اب روس کو بے لگام چھوڑنے کے بجائے اسے انگیج کرنا چاہتا ہے تاکہ روس کو یوکرین پر حملی کرنے کی صورت میں یورپ کو پریشان کرنے کا موقع نہ مل سکے اس لئے یورپ اور امریکہ کی کوشش ہے کہ افغانستان کا کاندھا استعمال کرکے ہی وہ روس کو سیدھا کر سکتا ہے اسے آزاد چھوڑنے کا مطلب پورے یورپ میں خوف و خطرے کی فضاءقائم کرنا ہے اس لئے اب سب کی کوشش ہے کہ ان کا افغانستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی سرزمین انہیں استعمال کرنے دیں ورنہ خود نائین الیون کی طرح سے دوبارہ افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا وہاں حامد کرزئی کی طرح سے اپنی کٹھ پتلی حکومت اور پورے افغانستان پر قبضہ کر لیں گے اور اپنے مخالفین کے خلاف اس سرزمین سے اپنی دفاع کریں گے پھر ہمیں نہ کوئی روکنے والا ہو گا اور نہ ہی ٹوکنے والا۔۔۔
یہ ہے وہ اصل صورتحال جس کی سزا افغانستان بھگت رہا ہے یعنی دوہ پہلوانوں کی جنگ میں وہ سینڈوچ بن رہا ہے اپنی جغرافیائی تاریخی حالت کی وجہ سے۔۔۔ یعنے کرے کوئی بھرے کوئی۔۔۔ جھگڑا روس سے ہے براہ راست پر حملہ کرنے کی جرات نہیں تو دوسروں کا کاندھا استعمال کرکے پراکسی وار لڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عالمی جنگی مبصرین اور دانشوروں کو اس جانب بھی غور کرنا چاہئے کہ خوامخواہ روس کا غصہ افغانستان پر نکالتے ہوئے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر بارود کے دھوئیں میں جانے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے یوکرین کا مسئلہ یورپ میں حل کرنے کی ضرور ہے ناکہ اس کے لئے کسی دوسرے بے گناہ کمزور ملک افغانستان کو میدان جنگ بنایا جائے اسی میں دنیا کا پائیدار امن و خوشحالی مضمر ہے۔
147












