Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر 8

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر

پاکستان ایک دفعہ پھر اندرونی تنازعات کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہے۔ حکومت وقت پچھلے چار سالوں میں جس طرح سے اپنے اپاہج ہونے کا مستقل مظاہرہ کررہی ہے وہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ نہ ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں“ کے مصداق حکومت محض بند کمروں میں مقتدرہ کی ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ صرف پڑھائے ہوئے بیانات داغنے کے علاوہ اور ہر قسم کی ذمہ داری سے مبرا نظر آتی ہے۔ اس حکومت کا پانچواں بجٹ جون کی اوائل میں پیش کیا جانا تھا جو ابھی تک انجام پذیر ہونے سے قاصر رہا ممکن ہے ان سطور کے شائع ہونے تک شاید اسمبلی میں پیش کیا جا سکے۔ اس بجٹ میں گزشتہ تمام کی طرح عوام کو کچھ حاصل ہو یا نہ ہو مگر اس بجٹ کا سہارا لے کر پاکستان پیپلزپارٹی نے ضرور اپنے کو مستحکم کرنے کی شرائط عائد کرنے کا کھیل کرلیا ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان میں انتخابات کے نتائج اپنے حق میں ہونے کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں اور کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنی حکومت بنانے کا مطالبہ تسلیم کروالیا ہے اور بجٹ میں رخنہ اندازی نہ کرنے کے عوض یہ سودا طے کرلیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق کشمیر اور گلگت بلتستان انہیں بخوشی عنایت کردیا جائے گا جب کہ بلتستان ایک آئینہ صوبہ نہیں ہے اگر گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں انتخابات کا سلسلہ اس وقت جاری ہوا جب 2009 میں پاکستان کی وفاقی حکومت بلتستان امپرومنٹ اور سیلف گورننس آرڈر کے تحت پہلی دفعہ گورنر کا عہدہ اور صوبائی اسمبلی اور وزارت اعلیٰ کے پارلیمانی نظام کی طرز پر نافذ کیا۔ اسی نظام کے رائج ہونے کے بعد سے یہ چوتھے انتخابات ہیں، چونکہ یہ علاقہ پاکستان کے صوبوں میں سے براہ راست ایک قرار نہیں پاتا اس لئے اسے وفاق کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں کچھ حاصل نہیں ہوتا یہ اور آزاد کشمیر دونوں خصوصی وفاقی گرانٹ پر چلتے ہیں اور تمام ترقیاتی کام اسی فنڈ کی وجہ سے انجام پاتے ہیں۔ 2009 میں پی پی پی نے اختیار سنبھالا اس کے بعد 2015 میں ن لیگ اور پھر 2020 تہریک انصاف نے انتظامی امور ہاتھ میں لئے۔
7 جون 2026 کو انجام پانے والے انتخابات میں تادم تحریر حتمی طور پر کسی بھی جماعت کی حقیقی اکثریت سامنے نہیں آسکی ہے گو کہ وزیر اعظم جناب شہباز شریف پی پی پی کو مبارکباد پہنچا چکے ہیں۔ انتخابات کے کھیل کے یہ سارے سلسلے اب پاکستانیوں اور دوسروں کی سمجھ میں مکمل طور پر آچکے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت گلگت اور کشمیر دونوں میں ایک خاص اس سے متعلق ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان انتخابات میں بھی وہ ہی سارے فارمولے استعمال کئے گئے جو 2024 میں کئے گئے۔ تحریک انصاف کو مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی ان کی اتحادی جماعت کو سمبل نہیں دیا گیا۔ بلکہ تحریک انصاف کے رہنماﺅں کو نہ صرف صوبہ بدر کردیا گیا بلکہ داخلے پر پابندی لگا دی گئی جب تمام دیگر جماعتیں بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلاتی رہیں۔ 24 رکنی ایوان میں حکومت سازی کے لئے 13 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ خبروں کے مطابق یہ نشتیں پاکستان پیپلزپارٹی کو الاٹ کردی گئی ہیں تاکہ گلگت بلتستان کا انتظامی ڈھانچہ مقتدرہ کے ایما پر کاربند رہے۔
دوسری طرف آزاد کشمیر سے متعلق حکومت پاکستان اپنی عاقبت اندیشی اور نا مناسب رویہ کے سبب اپنے داخلی معاملات کو عالمی سطح پر ایک ایسی صورت میں تبدیل کر چکی ہے۔ جس کے سبب پاکستان کو پھر ایک دفعہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس بار بیرون ملک مقیم کشمیریوں ہندوستان کے بجائے اپنے حقوق کے لئے پاکستانی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کرنے کا سلسلہ شروع کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پاکستان نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اپنے حقوق کی پاسداری کرنے والوں کو غدار اور دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ایک ایسی کمیٹی کو کالعدم قرار دیا ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے معاشی اور سیاسی معاملات پر حکومت پاکستان سے رابطے میں رہتے ہوئے مذاکرات میں مصروف رہی ہے۔ اس کمیٹی کا وجود 2023میں آیا جس میں مختلف معاشی اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ بعدازاں اس میں سیاسی اور آئینی مطالبات بھی شامل کر لئے گئے، جولائی میں متوقع انتخابات سے متعلق اس کی گزارشات پر مذاکرات بھی حکومت پاکستان اور عوامی آئینی کمیٹی کے مابین جاری ہے، اسے کالعدم قرار دینے کا ردعمل کشمیریوں کی طرف سے شدید آیا۔ جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے اپنی نا اہلی کو برقرار رکھتے ہوئے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا جس کے عوض قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عام شہریوں کی جانیں قربان ہوئیں۔ حکومت پاکستان نے اپنی کم فہمی کی بدولت آزاد کشمیریوں پر یہ کارروائی کرکے گویا ایک طرح سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر پر ظلم ڈھائے جانے والی تمام کارروائیوں میں سہولت کاری کا فریضہ انجام دیدیا۔
مہاجرین کی آزاد کشمیر سے باہر جو 12 نشستیں پاکستان میں انتخابات کا حصہ بنتی ہیں، آزاد کشمیر کا اس پر اعتراض درست ہے یا نہیں اس کا فیصلہ جہاں آئینی طور پر ہونا ہے وہیں اس مطالبہ پر آزاد کشمیر کو دستبردار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کشمیریوں کے مطابق پاکستان کی سیاسی جماعتیں اسے اپنے ایجنڈے کے تحت استعمال کرتیں ہیں اور اس کا اثر آزاد کشمیر کی سیاست اور حکومت پر ہوتا ہے۔ یہ اعتراض ایک تفصیلی اور تجزیاتی جائزہ کا تقاضہ کرتا ہے۔
پاکستا کئی دہائیوں سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے الزام کا شکار ہے۔ پاکستان کے دو لخت ہونے میں یہ بھی یہ ہی عنصر سامنے آچکا ہے اس وقت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حالیہ واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی بنیادی حقوق کی تنظیمیں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گی کہ پاکستان اس وقت بیرونی امن مسائل حل کرنے اور امن حاصل کرنے کے لئے کوششوں میں مصرف ہے جب داخلی طور پر خود اپنی سرحدوں کے اندر امن عامہ اور ان تمام سلامتی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی لاقانونیت کو کس طرح جاری رہنے کی اجازت دے رہا ہے جو آئینی طور پر منافی ہے۔
لمحہ فکریہ ہونا چاہئے ان تمام دانشوروں کے لئے جو حکومتی تقاضے پورے کرنے میں مصروف رہتے ہیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں