Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
کشمیر بھی بلوچستان کی طرح جل رہا ہے؟ 5

کشمیر بھی بلوچستان کی طرح جل رہا ہے؟

بلوچستان کے بعد اس وقت پاکستان کی شہ رگ کا درجہ رکھنے والا کشمیر بھی خون میں لت پت ہے، وہاں پر خون کی ہولی کھیلے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، ایک طرح سے کشمیریوں کے حق خودارادیت پر شب خون مارا جارہا ہے، انہیں غلام در غلام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ملکی میڈیا پر خون خرابے کی اطلاعات پر مکمل پابندی ہے، آزاد ذرائع اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اس کے مطابق بہت بڑی تعداد میں آزادی کی تحریک چلانے والے نوجوانوں کو شہید اور زخمی کردیا گیا ہے، اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کے لئے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں غائب کروائی جارہی ہیں اور زخمیوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے جب کہ الیکشن کا ایک ڈھونگ رچا کر ملکی عوام اور عالمی دنیا کو بے وقوف بنایا جارہا ہے، سب کو معلوم ہے کہ آزاد کشمیر کے لوگ کیا چاہتی ہیں ان کے مطالبات کیا ہے اور وقت کے فرعون کیا کررہے ہیں، پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے الیکشن پر اثر انداز ہوتے ہوئے کشمیر کی حکومت کو 8 بسوں کا تحفہ دیا جو الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی صریحاً خلاف ورزی ہے چونکہ پورا انتخابی پراسس ہی طے شدہ ہے۔ رزلٹ پہلے سے تیار ہے، سب کو معلوم ہے کہ آزاد کشمیر کس کی جھولی میں ڈالا جائے گا، جس طرح کے فارمولا انتخابات گلگت بلتستان میں ہوئے اور حکومت پیپلزپارٹی کو دے دی گئی، اسی طرح کا عمل کشمیر میں بھی ہونے جارہا ہے، وہاں ہونے والے اس خون خرابے سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے جو کچھ بھی وہاں کیا جارہا ہے وہ وہاں کے عوام کی مرضی اور ان کی خواہشات کے برعکس ہو رہا ہے، ایک طرح سے ان پر تھوپا جارہا ہے، گملوں کو تنا آور درختوں پر فوقیت دیے جانے کا رسوائے زمانہ کھیل وہاں کھیلا جارہا ہے، یعنی کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے بلوچستان کی طرز کی ایک جعلی حکومت بنوائی جارہی ہے، جس میں کشمیریوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہو گی، کشمیر کی آزادی کا مقدمہ لڑنے والوں کو حراست میں لے کر غائب کروایا جائے گا اور اس کے بعد جب کبھی پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کئے گئے تو ان کے ردعمل میں ان ہی گمشدہ کئے گئے نوجوانوں کو مار کر ان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کردیا جائے گا یعنی ”نئی بوتل پرانی شراب“ جو سلسلہ پہلے کراچی آپریشن اور اس کے بعد بلوچستان میں شروع کیا گیا وہ اب آزاد کشمیر میں بھی شروع کروائے جانے کی تیاریاں کی جارہی ہے جس کی شروعات ایک انتہائی جونیئر پولیس افسر کو آئی جی پولیس آزاد کشمیر تعینات کرنے سے کردی گئی ہے، جنہوں نے آزاد کشمیر میں قدم رکھتے ہیں خون خرابے کی ابتداءکردی ہے، اور اب سلسلہ رکنے والا نہیں بلکہ بلوچستان کی طرز پر کشمیر میں بھی سی ٹی ڈی فعال کردی جائے گی، اور پنجاب انکاﺅنٹر اسپیشلسٹ کسی فرعون ایس پی کی خدمات لے لی جائے گی اور اس کے بعد سرکاری سطح پر لیگل قتل عام کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ان خدشات کا اظہار خود آزاد کشمیر کے صحافیوں اور دانشوروں نے کرلیا ہے اور اب ایک خاموش آپریشن حساس اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں شروع کردیا جائے گا جس کے لئے گزشتہ روز وزیر مملکت طلال چوہدری نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاءتارڑ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ آزاد کشمیر کی ریاست فسادیوں سے قانون کے مطابق نبٹے گی، ان کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی حقوق دلانے کی نہیں بلکہ حقوق چھیننے کی تحریک ہے، طلال چوہدری کشمیریوں کے نمائندوں کو فسادی کہہ کر ان کی توہین کررہے ہیں اور اپنا مائینڈ سیٹ بتلا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ فسادیوں کے ساتھ کیا کرنے جارہے ہیں، حکمرانوں کو پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کے سیاسی معاملات کو طاقت کے بجائے سیاست سے حل کرنا چاہئے، ورنہ حالات خراب ہو سکتے ہیں اور فائدہ دشمنوں کو ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں