”زمانہ چال قیامت کی چل گیا“ 40

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

مارے جانے والے یہ وہ ہی معصوم لوگ ہیں جو بلوچستان سے لے کر سندھ، پنجاب، سرحد، بنگال، بہار، آسام، اترپردیش اور ہندوستان کے کئی اور علاقوں سے ایک عزم کے تحت یکجا ہوئے کہ اب غلامی کی زنجیریں کٹ کر گرنے والی ہیں۔ آزادی کا سورج نکلنے کو ہے اور اس کے بعد روشن راستوں پر گامزن ہو جانا ہے اور جب اگست 1947ءمیں نوید سحر کا اعلان ہوا تو وہ صرف اور صرف اپنی امیدوں اور تمناﺅں کی گٹھڑی کندھوں پر اٹھا کر جوق در جوق عازم سفر ہوئے کہ ایک پاک سرزمین ان کا مسکن ہونے جارہی ہے جہاں زندگی پاکیزہ، خوددار اور غیرت مند ہوگی جہاں ہر ذی روح کو مساوات کی بنیاد پر برتا جائے گا اور جہاں عزت نفس اور خودمختاری قوم کا وصف کہلائے گی۔
راستہ کٹھن اور نامساعد تھا، 1919ءسے لے کر 1947ءتک کی جدوجہد تھی، تحریک خلاف سے لے کر قائد اعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ تھا، ارادہ تھا، یقین محکم کے دشوار مرحلے تھے۔ خون آشام شب و روز تھے مگر ایک لگن تھی، ایک ایسی سرزمین بسانے کی جہاں سر اٹھا کر ایک آاد قوم کی طرح جیئں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو باعزت، خودمختار اور شفاف مستقبل دیں گے، جان و مال قربان کرکے جب وہ اس سرزمین پر پہنچے تو سر بسجود ہوئے اور روشن راہوں اور منور راستوں کی امیدیں جگمگا اٹھیں۔ آنے والوں اور مقامی لوگوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے کا سفر شروع کیا۔ ایک دوسرے کے دل و دماغ سے آشنائیاں ہوئیں اور قربانیوں کے صلے ملنے کی راہیں ہموار ہونی شرع ہوئیں۔
پاکستان نقشہ عالم پر ایک اسلامی ریاست کے طور پر نمودار ہوا، دشمن گھات میں رہا کہ ان خوابوں کی تعبیر نہ ہونے پائے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کا راستہ دکھانے والے اور پھر اس کو منزل میں ڈھالنے والے چٹان کی سی مضبوط شخصیت رکھنے والے قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی رحلت سے خوابوں کے دھندلانے کی ابتداءہو گئی۔ قائد کے دست راست لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے گورنر جنرل راولپنڈی میں جلسہ عام میں شہید کردیئے گئے۔ پاکستان کی ریاست میں نقب لگ چکی تھی۔ تاریخ کے اوراق اس کے بعد سے اندرونی اور بیرونی سازشوں کے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان بنانے والی جماعت مسلم لیگ میں اقتدار کی کشمکش قائد اعظم کے جانے کے فوراً بعد ہی شروع ہو گئی۔
آزاد اور خوددار قوم کا خواب دیکھنے والے عوام الناس سراسمیگی کے عالم سے دوچار ہوتے رہے۔ نقب زن بھیس بدل بدل کر ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش میں مصروف رہے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی 7 سالوں میں 10 وزرائے اعلیٰ کرپشن کے الزام میں برطرف ہوئے اور صوبوں میں گورنر راج لگایا گیا۔ جوں جوں تحریک پاکستان سے وابستہ سیاستدانوں کا وجود ختم ہوا، پاکستان کی سیاست میں نیا طرز فکر اور رجحان سرائیت کرتا گیا۔ سیاست کارکنوں کے ہاتھوں سے نکل کر اشرافیہ کو منتقل ہوتی چلی گئی۔ آبادی میں اضافہ کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہوا۔ سادہ لوح عوام اپنے نمائندگان پر بھروسہ کرتے رہے جو انہیں کامرانیوں کی طرف لے جانے کا دعویٰ کرتے تھے مگر سیاست کا مطمع نظر تبدیل ہو چکا تھا۔ اقتدار کے ایوانوں کے راستوں کی نبردآزمائی شروع ہو چکی تھی۔ ذاتی مفادات قومی مفادات پر فوقیت اختیار کر چکے تھے۔ سیاستدان اخلاقی طور پر کمزور پڑتے چلے گئے۔ آزادی اور خودمختاری کی امیدیں رکھنے والی قوم کو بیرونی امداد کا یرغمال بنا دیا گیا۔ پاکستان اپنی سالمیت اور بقاءکے لئے دوسروں کا محتاج ہوتا چلا گیا۔ راہیں تاریک ہوتی گئیں۔
نا اہل سیاستدانوں اور اندرونی سازشوں نے ایک نیا راستہ کھول دیا، پاکستان میں 1958ءمیں فوج نے سول حکومت کی بساط لپیٹ دی اور پاکستان میں پہلا مارشل لاءنافذ کردیا گیا۔ فوج سرحدوں سے اٹھ کر ملک کے انتظامی طول و عرض میں پھیل گئی۔ پاکستان کا آئین 1956ءمیں نافذ العمل ہونے کے بعد صرف 2 سال اور 6 ماہ میں مارشل لاءکے ہاتھوں ختم کردیا گیا۔
پہلے مارشل لاءسے لے کر 60 کی دہائی ختم ہونے تک پاکستانی قوم اور سیاست کئی بحرانوں سے گزرے۔ 1965ءمارشل لاءایڈمنسٹریٹر ایوب خان نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے کنوشن مسلم لیگ کا ٹکٹ حاصل کیا اور محترمہ فاطمہ جناح کونسل مسلم لیگ کی امیدوار رہیں۔ ایوب خان الیکشن جیت گئے۔ ووٹ دینے کا اختیا صرف بلدیاتی اداروں کے ممبران کے پاس تھا جن کی تعداد 80 ہزار تھی۔ عوام بالغ رائے دہی کا تقاضا کرتے رہے۔ اور یقیناً اس طرح نتائج مختلف ہوتے۔
پاکستان میں دوسرا شب خون 1969ءمیں مارا گیا۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کی حکومت کا ختہ الٹ کر مارشل لاءلگا دیا اور 1970ءمیں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پاکستان کے پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے ان میں 24 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان ملا کر کل 300 نشستوں تھیں۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے 162 میں سے 160 نشستیں حاصل کیں جب کہ مغربی پاکستان میں 138 میں سے 81 نشستیں پاکستان پیپلزپارٹی نے حاصل کیں۔ سیاستدان ایک دفعہ پھر اقتدار کی جنگ میں مصروف ہو گئے، ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت کی۔ ملک کی یکجہتی داﺅ پر لگا دی گئی۔ عوام حیران و پریشان جنرل یحییٰ خان، مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کی طرف دیکھتے رہ گئے۔ پاکستان دو لخت ہو گیا۔ مخالفت کرنے والوں پر مقدمے بنا دیئے گئے اور محب وطن پاکستانی اور فوج جنگی قیدی بنا کر ہندوستان کے کیمپوں کو رانہ کردیئے گئے۔ سیاستدانوں کے رعونتی اور غیر منصفانہ رویوں کی بدولت وہ ملک جو مسلمانوں کی یک جہتی کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا سیاستدانوں کے گھمنڈ کی نظر ہوگیا۔ راہیں معدوم ہوتی گئیں۔
1977ءمیں ایک اور مارشل لاءلگ گیا اور پھر پاکستان ایک اور رُخ کی طرف چل پڑا۔ مسلمانوں کے لئے عزت، سہولت اور آزادی پر بننے والے ملک میں اسلامی اقتدار بیدار کرنے کی بجائے انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ سیاستدانوں کے نئے ٹولے ابھر کر سامنے آئے۔ مراعات اور مفادات کی دوڑ سامنے آئی جس میں سیاسی اشرافیہ اور عام آدمی کے مسائل میں کوئی یکسانیت نہیں قائم ہوئی ملک دیوالیہ ہوتا گیا عوام مفلوک الحال اور سیاسدان امیر ترین ہوتے گئے۔
سیاست کے جوڑ توڑ اور داﺅ پیج میں ترقی ہوتی چلی گئی، کئی نئی سیاسی جماعتیں سامنے آئیں، عوام کے حقوق پر نعرہ لگانے کا کھیل جاری رہا۔ عوام اپنے حقوق کے تعاقب میں ہی لگے رہے۔ سیاستدانوں کی نا اہلی اور کمزوریوں نہ صرف پاکستان کو بیرونی دنیا کے رحم و کرم پر ڈال دیا ہے بلکہ 22 کروڑ افراد کی اس قوم کو عالمی طور پر ایک ایسی حیثیت میں لا کھڑا کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کی داخلی سیاست میں بھی دخَ اندازی کی مجاز رہی ہیں۔ سیاسی اشرافتہ اپنے تمام طرز عمل سے صرف اور صرف اقتدار کی بازیاں اور باریاں کھیلتی نظر آتی ہیں اور ایک عام پاکستانی نے اسے اپنی قسمت سمجھ کر صبر کرلیا ہے کہ ہم سڑک پر نعرے لگانے والے کارکن ہو سکتے ہیں مگر ہمیں اپنے معاملات سلجھانے کا کوئی اختیار نہیں۔ قانون اشرافیہ کے لئے اور ہمارے لئے مختلف ہے۔ 22 کروڑ عوام سیاست کو سمجھنے کا شعور تو رکھتے ہیں مگر سیاست میں ان کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ تمام سیاسی جماعتیںجن اخلاقیات کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ ان روشن صبحکو دیکھنے والوں کی امیدوں پر بجلی ہی گراتا ہے۔ اپنے مفادات کے لئے سیاستدان جس طرہ ان سادہ لوح عام کو استعمال کرتے ہیں وہ ایک المیہ سے کم نہیں، ہر مختصر عرصے کے بعد 22 کروڑ عوام پھر امیدیں لگا لیتے ہیں کہ شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے۔ شاید کوئی ایسی راہگزر ہو جو ان کے لئے اس منزل پر پہنچنے کا وسیلہ بنے جس کی امیدیں وہ پچھلے 75 سال سے جی رہے ہیں جہاں خودداری اور نیک نیتی کی فصیل ہوں۔ جہاں انصاف بلاتفریق ملنے کی توقع ہو، جہاں انصاف خریدا نہ جا سکے، جہاں مساوات کی روشنی میں معاملات نپٹائے جاتے ہوں، جہاں ایمانداری وصف قرار دی جائے، سچائی کی توقیر ہو مگر یہ 22 کروڑ معصوم اور سادہ دل لوگ یہ سمجھتے ہی نہیں، وہ تو شاید برسوں تک تاریک راہوں کے ہی مسافر ٹھہریں گے، اشرافیہ تو جگمگاتے راستوں پر گامزن ہے۔ ہاں مگر امیدیں دم نہیں تورنی چاہئیں شاید کوئی روشن گلی نظر آ ہی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں