ریاست پاکستان تنزلی کی آخری حدوں پر۔۔۔ 33

پاکستان ۔۔۔ نئے آرمی چیف کی تقرری

آخر کار وہ گھمبیر مسئلہ جس نے گزشتہ کئی ماہ سے پورے پاکستان کو اپنا یرغمال بنایا ہوا تھا، اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ ایک نئے آرمی چیف کی تقرری کا مرحلہ بخیر و خوبی انجام کو پہنچ گیا۔ جس طرح اس تقرری پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں میں بھی تنازعات کھڑے ہوئے اس نے اس خیال کو اور بھی تقویت بخشی کہ پاکستانی فوجی ادارہ ہمیشہ پاکستان کے حکومتی امور میں اثر انداز رہی ہے گو کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی برخاستگی سے چند روز قبل اس کا اعلان کیا کہ ”اب“ فوج نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مکمل طور سے سیاسی اور حکومتی امور سے الگ تھلگ رہے گی مگر کمان تبدیل ہونے کے یوم آخر تک جو مشاہدات سامنے آئے وہ اس کے برعکس تھے۔
پاکستان میں 1958ءسے لے کر اب تک 4 مارشل لاءلگائے گئے۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں سول حکومت کا عرصہ مختصر رہا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کی تاریخ میں بھی جہاں سیاسی بصیرت کی کمیابی کے شواہد سامنے آئے وہیں فوج نے بھی مشرقی پاکستان سے تعلقات میں دراڑیں ڈالنے میں کردار ادا کیا۔ آج تک حمودالرحمن کمیشن کے مندرجات سامنے نہ آسکے تاکہ کھل کر ان حقائق کو سامنے لایا جا سکے اور عوام اس المیہ کے ذمہ داران کا تعین کرسکے جنہوں نے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔
فوج یا اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اس کا اظہار کیا کہ چونکہ آئین کی رو سے فوج کا بنیادی فریضہ ہی ریاست کی حفاظت ہے، اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مجبوراً ایسے حالات میں جب گلے اشارے ملنے لگیں کہ حالات سیاستدانوں کے اختیار سے بے قابو ہونے لگے ہیں اور اس کے گہرے اثرات ریاست کی سالمیت پر اثر انداز ہونے لگیں تو اس وقت فوج کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے میدان میں اترنا پڑتا ہے۔ بہر صورت نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کے ساتھ کم سے کم پاکستان کو اس ہیجانی کیفیت سے چھٹکارا نصیب ہوا جس سے وہ دوچار تھا۔ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف نے اپنی چھ سالہ مدت میں پاکستان کی تاریخ میں ایک مختلف قسم کا باب رقم کیا ہے۔ جہاں انہیں ایک ایسے آرمی چیف کے طور پر یاد کیا جائے گا جس نے سفارت کاری اور ملک کو درپیش کئی مسائل کو حل کرنے میں بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہیں ان سے منسلک بہت سے ایسے واقعات اور کاموں کا تذکرہ بھی کیا جائے گا جو شاید فوج کی تاریخ میں خوشگوار ابواب میں جگہ نہ پاسکیں۔ نئے آرمی چیف نے ایک مشکل وقت میں اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔ اس وقت ان پر شدید دباﺅ ہو گا اور عالمی طور پر نظر رکھی جائے گی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں کس طور سے شروع کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستان کے علاوہ شاید ہی کوئی اور ایسا ملک ہو جس کے آرمی چیف کی تعیناتی ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہو، فوجی اور سیاسی دونوں تناظر میں۔
اس تعیناتی کے بعد پاکستانی سیاستدان اب ایک نئے محاذ پر سرگرم ہو گئے۔ تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے بلکہ امکان یہ بھی ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان بھی ہو جائے۔
عمران خان نے اپنے مارچ اور احتجاج کو جس حکمت عملی کے تحت طویل دور میں منتقل کیا وہ ابھی تک انہیں ان کے مطالبات کے اس مقام تک تو نہیں پہنچا سکا یعنی انتخابات کا جلد از جلد وقوع پذیر ہونا مگر اندازہ ہو رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں رابطے اور یقین دہانیاں ضرور جاری ہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی کے سلسلے میں عمران خان کا یہ موقف کہ تحریک انصاف کسی بھی نئے آنے والے چیف کا خیرمقدم کرے گی یقینی طور پر جہاں کئی حلقوں اور عوام کے لئے اطمینان کا باعث بنا وہیں سیاسی طور پر ایک مدبرانا عمل بھی تسلیم کیا گیا۔ 26 نومبر کے جلسے میں عوام کی کثیرالاتعداد شرکت نے ایک دفعہ پھر اندرونی اور بیرونی تمام قوتوں پر یہ ثابت کردیا کہ زمینی حقائق کے تحت اس کو تسلیم کرلینا ہوگا کہ تحریک انصاف فی الوقت پاکستان کی مقبول ترین جماعت اور عمران خان مقبول ترین لیڈر ہیں۔
عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد حکومت کے ردعمل اور بیانات نے نہ صرف تحریک انصاف کے حامیوں میں اضافہ کیا بلکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف غم و غصہ کو مزید ہوا دی۔ کئی حلقوں کو اس مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد احتجاج میں تعطل پیدا ہو گا۔ حالات اس کے برعکس نظر آئے بلکہ تحریک انصاف کے راولپنڈی میں منعقد جلسے میں جس طرح مقررین نے کھل کر بیانات دیئے، مقتدر حلقوں، حکومت سمیت دیگر کے متعلق اس نے تحریک انصاف اور عوام کے درمیان رہی سہی دیوار کو بھی منہدم کردیا۔ یہ بھی ایک انتہائی المیہ ہے کہ وہ قوم جو ہمیشہ اپنی فوج کی مداح اور فاخر رہی کو کچھ افراد کے طرز عمل کی وجہ سے ندامت سے دوچار ہونا پڑا۔
اس وقت پاکستانی سیاسی افق پر سراسمیگی کا اجارہ ہے۔ 13 جماعتی اتحادی حکومت تحریک انصاف کے اسمبلیوں سے متعلق اعلان کے بعد اسمبلیوں کی تحلیل کے خدشات کے باعث پریشان کن صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر پختونخواہ اور پنجاب میں یہ عمل انجام پاتا ہے تو حکومتی مشینری میں ایک بڑا خلاءپیدا ہو جائے گا۔ ضمنی انتخابات کے ذریعے اس کثیر تعداد کو پُر کرنا بے حد دشوار اور قیمتی ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے گو کہ یہ اعلان کردیا ہے کہ ضمنی انتخابات 60 یوم کے اندر انجام پا سکتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ایک کثیر رقم کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔ اگر اس مہنگے انتخابات کا انعقاد کر بھی لیا جائے تو اس موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہونے کے ساتھ ہی عام انتخابات لازم ہو جائیں گے۔
حکومت تو اس وقت اس پس و پیش میں بھی ہے کہ تمام اسمبلیوں میں تحریک عدم اعتماد کی تحریک جلد از جلد لا کر تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفیٰ یا تحلیل کرنے کا وقت ہی نہ دیا جائے۔ پاکستان پیپلزپارٹی تو کسی بھی طور جلد الیکشن پر رضا مند نہیں ہو گی، اس کی وجہ وہ اندیشے ہیں کہ اس صورت میں شاید سندھ میں بھی پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ دیہی اور شہری سندھ میں پی پی پی کی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کسی اور طرف دیکھنے کا رجحان سامنے آرہا ہے۔ پنجاب ن لیگ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس لئے اس وقت بھرپور کوشش یہ ہی ہو گی کہ کسی نہ کسی طور انتخابات طویل مدت تک التواءمیں ڈالے جائیں۔
تمام 13 جماعتی حکومتی اکابرین اپنی حکمت عملیوں کے ہمراہ کچھ نہ کچھ امیدیں اسٹیبلشمنٹ سے بھی لگائے ہوئے ہیں۔ ضرورت تو اس وقت یہ ہے اور پچھلے کچھ سالوں کے تلخ تجربوں کے بعد سیاستدان اپنا قبلہ درست کرنے کی طرف توجہ دیں اور کوشش کریں کہ سیاسی امور اور سیاست صرف سیاستدانوں کے ہاتھوں میں رہے، مقتدر حلقے یہ موقع ہی نہ پائیں کہ کسی بھی بہانے دخل اندازی کی صورت نکلے۔ اس وقت فیصلے صرف اور صرف عوام کی دسترس اور اختیار میں ہونے چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں