Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
حادثے ایک دم نہیں ہوتے 130

نظام ناکام ہو چکا

ریاست پاکستان اپنے قیام کے ابتدا ہی سے اپنے نظام حکومت کے سلسلے میں خلفشار کا شکار رہی۔ 1956 میں چوہدری محمد علی کی کوششوں سے پاکستان کا پہلا آئین دستور ساز اسمبلی نے تیار کیا۔ اس میں وفاقی پارلیمانی نظام حکومت کو نافذ کرنے کی سفارش کی گئی مگر کچھ ہی عرصہ بعد گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسے منسوخ کردیا۔ 1958 میں ایوب خان خود کو منصب صدارت پر فائز کرتے ہوئے صدارتی نظام کی بنیاد ڈالی۔ پھر 1973 میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئین مرتب کیا تو ایک دفعہ پھر پارلیمانی طرز حکومت رائج کی گئی۔ 1973 کا آئین وہ واحد مکمل دستاویز تھا جو باوجود ترامیم کے آج تک موجود ہے۔ جنرل یحییٰ نے ایک دفعہ پھر اقتدار قائم کرنے کے لئے صدارتی نظام کا سہارا لیا 1977 میں۔ عجیب اتفاق رہا کہ وہ تمام ڈکٹیٹر جو فوج کے دارے سے صدارت پر ممتکن ہوئے نے صدارتی نظام کا سہارا لیا۔ ریاست پاکستان کا نظام حکومت کی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا اسی توجیہہ کے ساتھ کہ موجودہ نظام قابل عمل نہیں رہا۔
امور حکومت پر دسترس رکھنا حکومتی اکابرین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت اپنے ڈھائی سالہ دور میں عوام کے لئے مایوسی کے علاوہ کچھ بھی فراہم کرنے سے قاصر رہی۔ شدید ترین معاشی بحران سے لے کر روز افزوں ترقی کرتی ہوئی دہشت گردی نے عوام الناس کے لئے اذیت زدہ ماحول کی چادر تان دی ہے۔ اس تمام عرصے میں حکومت کی طرف سے یہ ہی اعلان سامنے آتے رہے کہ ملک ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ حکومتی اکابرین کے متعدد بیرونی دورے اور سرمایہ کاری سے متعلق بے شمار مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہونے کے باوجود کوئی مثبت اور یقینی کارروائی سامنے نہ آسکی۔ حکومتی دعوﺅں کے باوجود کئی بیرونی کمپنیاں جو یہاں موجود تھیں واپسی کا راستہ اختیار کر لیا۔ کئی پاکستانی صنعت کاروں نے اپنے کاروبار بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جس کی وجہ یہ ہی بیان کی گئی بیرونی اور مقامی تجارت کاروں کی طرف سے کہ یہاں غیر محفوظ اور غیر یقینی حالات اور مستقل تبدیل ہوتے رہنے والی پالیسیوں کے ہمراہ عدالتی تحفظ فراہم نہ ہونے پر یہ فیصلے کئے گئے۔
معاشی مسائل سے نپٹنے کے لئے حکومت وقت کے پاس کوئی مضبوط مثبت لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔ آئی ایم ایف کی اقساط اور اس پر دوست ممالک کے قرضہ جات پر زندہ رہنے والا نظام تیزی سے تنزلی کی طرف گامزن ہے۔ روزمرہ کے بڑھتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات اس سوچ میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے کہ حکومت وقت نہ صرف اپنے فرائض منصبی سے کوتاہی برت رہی ہے بلکہ ایسی کیفیت میں مبتلا کردی گئی ہے جس میں تمام امور حکومت اس کی دسترس میں نہیں رہے۔ وزیر دفاع کچھ ماہ قبل برملا ذمہ داری کے ساتھ یہ بیان دے چکے ہیںس کہ پاکستان اب ہائبرڈ سسٹم کے تحت چل رہا ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کے اہم ترین وزیر کی جانب سے یہ اعلان کہ موجودہ حکومتی نظام ناکام ہو چکا ہے۔ خاص طور پر وزیر اعظم سے متعلق یہ بیان کہ وہ چاہے کتنے ہی گھنٹے کام کریں افاقہ کسی صورت ممکن نہیں۔ جہاں اس بیان سے یہ اشارہ نظر آتا ہے اب حکومتی ارکان کو اپنی ناکامی کا ادراک ہو رہا ہے۔ وہاں یہ سوال بھی پوری سنجیدگی سے سامنے آتا ہے کہ کیا یہ اعلان محض تمام صورتحال کا تجزیہ کے طور پر سامنے آیا ہے یا درحقیقت پس پردہ ایک پیغام کے طور پر نشر کیا گیا ہے کیونکہ پاکستانی قوم اس طرح کے صدمات سے بارہا گزر چکی ہے۔ موجودہ حکومت جس طرح آئین میں 26 ویں اور 27ویں ترامیم کرکے خود کو مفلوج ہونے کی حالت سے دوچار کیا ہے۔ اسے اس قسم کے ارشادات کی توقع رکھنی چاہئے۔ اس بیان کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے تمام حکومتی محکموں سے ان کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔ گویا اضطراب کی کیفیت قائم ہو چکی ہے اور مستقبل کی جھلکیاں سامنے آرہی ہیں۔
نئے صوبے پاکستان کی اہم ترین ضرورت ہیں مختصر انتظامی اکائیاں ہمیشہ کارگر ثابت ہوتی ہیں۔ ہمسایہ ممالک بھارت نے تقسیم کے فوراً بعد ہی اس پر کام کی ابتداءکردی تھی جب کہ پاکستان میں یہ مسئلہ مستقل طور پر بے اعتنائی کا شکار رہا۔ مختلف وجوہات کی بناءپر۔ جنوبی پنجاب ہمیشہ سے نا انصافی کا تذکرہ کرتا رہا۔ یہ ہی صورت حال سندھ میں بھی موجود ہے۔ اندرون سندھ کے حالات دگرگوں ہیں، کسی بھی قسم کی ترقی کے سلسلے میں۔ مگر اس وقت جب پاکستان انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، صوبوں کی تقسیم کا مسئلہ زیر غور لانا نامناسب نظر آرہا ہے۔
فی الوقت ضرورت یہ ہے کہ کسی بھی غیر ائینی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تمام ذمہ داران سنجیدگی سے زمینی حقائق اور مسائل کا معائنہ کرتے ہوئے کوئی مضبوط مثبت لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ بجائے اشرافیہ کو نوازنے کے ایک عام شہری کی زندگی میں آسانیاں فراہم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ ان تمام نا مناسب طرز عمل اور لائحہ عمل کا مطالعہ کریں جنہوں نے نہ صرف بیرونی سرمایہ کاروں کے راستے مسدود کئے بلکہ مقامی صنعت کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ برآمدات کا سلسلہ تقریباً مخدوش ہو کر رہ گیا ہے اور درآمدی اشیا پر محصولات نے مقامی صنعتوں کو مفلوج کردیا ہے۔ پٹرول پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین قیمتوں پر میسر ہے۔ سیاسی طور پر پاکستان جس غیر مستحکم حالت میں ہے اس کا تذکرہ عالمی ذرائع ابلاغ تفصیل سے بیان کررہی ہے۔ آزاد کشمیر کے واقعات پاکستان کے 77 سالہ موقف کی نفی کرتے نظر آرہے ہیں۔ سیاسی مخالفوں سے سلوک کے واقعات اب پاکستان کی نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں۔ عالمی حقوق انسانی کی تنظیمیں اب کھل کر تبصرہ کررہی ہیں کہ عالمی طور پر ٰثالثی کرنے والے ملک کے اندر سیاسی استحکام کیوں قائم نہیں ہو پا رہا۔ وہاں ثالثی کے راستے کیوں اختیار نہیں کئے جارہے۔
انتہائی توجہ طلب وقت ہے نہ صرف حکومت وقت کے لئے بلکہ ان تمام سیاسی جماعتوں کے لئے جو پاکستان کو ایک آئینی سیاست کے طور پر تسلیم کرتی ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر ان تمام معاملات کو گرفت میں لیں جو کسی بھی صورت پاکستان کی سالمیت اور آئینی وقار کو اندوہناک نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں