کورونا کا آغاز انڈیا سے ہوا 241

میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کی حقیقت

اللہ پاک نے اپنی تعلیم کے ذریعے عورت کو دنیا میں جو مقام عطا کیا ہے۔ اس کی مثال دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی ہے۔۔ عورت کو ہررشتے میں ایک انمول مثال کے ساتھ پیش کیا ہے۔۔۔ پر وقت کے ساتھ عورت کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو بالکل بدل رکھ دیا۔۔ جو کہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔۔ آج عورت کے ساتھ کیے جانے والا سلوک جہالت کے دور کے جیسا ہی ہے۔۔آج بھی بیٹی پیدا ہونے پر بہو کو مارا جاتا ہے۔۔ یا تو اس بیٹی کو پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتاہے۔۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔۔ پر اس میں ہونے والے عورت کے حقوق پر اقدامات اسلامی تعلیمات کی پیروی سے دور نظر آتے ہیں۔۔ اس کی بڑی اہم وجہ انڈیا سے آیا ہوا ایک جہالت ذدہ کلچر ہے۔۔
آج اگر دوسرے ترقی پذیر ملکوں کا جائزہ کرو۔۔تو وہ ملک عورت کے حقوق میں پاکستان اور انڈیا سے بہت بہتر نظر آتے ہیں۔۔ ہر نئے سال خواتین کے عالمی دن کی تیاریاں گرچہ مہینوں پہلے سے شروع ہوجاتی ہیں۔۔ پر پاکستان میں اس دن کو ایک نئی بحث اور نیا فساد کھڑا ہو جاتا پے۔۔جس کی اہم وجہ میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کے نعرے ہیں۔۔ افسوس یہ ہے۔۔ میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں نے عورت کے حقوق کو منفی انداز سے پیش کیا۔۔ایسا انداز جس کا دیکھ کر کوئی بھی غیرت مند باپ بھائی اور شوہر ڈر جائے گا۔۔ ان کے منفی انداز کو دیکھ کر تو ہر غیرت مند باپ بھائی بیٹی نہ ہونے کی دعا ہی کرے گا۔۔ میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں نے سب سے بڑا ظلم یہ کیا ہے۔۔ ان کی وجہ سے ظلم وستم اور زیادتیوں کا شکار ہونے والی عورتوں کی آواز دبا دی ہے۔۔ وہ منفی سوچ کے لوگ جو اس جدید دور میں بھی عورت کو تعلیم روک دیا کرتے ہیں۔۔ وہ لوگ میرا جسم میری مرضی کرنے والی کے نعرے دیکھ کر اپنے منفی رویے کو درست سمجھ رہے ہیں۔۔
گزشتہ برس کے بر خلاف اس بار عورت مارچ کی تیاریاں دوماہ قبل شروع کر دی گئی تھیں۔۔ اور کراچی پریس کلب کے باہر عورت ترانہ کی ریہرسل کی ویڈیو کولے سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے حامی اور مخالف سر گرم ہو چکے تھے۔۔تاہم مارچ کے حوالے سے آرگنائزنگ کمیٹی کی اراکین شیما کرمانی اور جسٹس ماجدہ سید رضوی نے مشترکہ نیوز کانفرس کے دوران مارچ کا پروگرام اور اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مارچ کسی مخصوص جنس یا طبقہ کے خلاف نہیں ہے۔۔ بلکہ خواتیں پر ہونے والے جبر ظلم اور زیادتیوں کے خلاف ہے۔۔ اور خواتیں کے حقوق کے لیے ہے۔۔ جس میں مرد بھی ہماری حمایت میں کھڑے ہیں۔۔عورت مارچ گزشتہ تین برس سے ہورہا ہے۔۔ جس میں مرد بھی شریک ہوتے ہیں۔۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔۔ عورت مارچ کرنے کا مقصد چند بنیادی مطالبات ہیں۔ تاکہ عورت پر تشدد بند ہو۔ عورت معاشی انصاف ملے۔۔ اسلام میں سب سے زیادہ حقوق خواتیں کو حاصل ہیں۔۔ شادی کے لیے منظوری سے لے کر بچوں کی تعلیم وتربیت تک عورت کا انتہائی اہم کردار ہے۔۔میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کےنعروں کا انداز بے حیائی کو عام کرنا تھا۔۔ جو کہ ان کے نعروں سے محسوس بھی ہورہا تھا۔۔ میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔۔ مسلم معاشرے میں اگر کوئی ایسی سوچ رکھے تو وہ گناہ کا مرتکب ہو گا۔
واثت میں حق کی بات اسلام میں موجود ہے۔۔ گھریلوتشدد سے لیکر ہر طرح کی زیادتی پر آواز سب سے پہلے دینی حلقے اٹھاتے ہیں۔۔ لہذا خواتیں کے لیے حقوق کے نام پر پھیلائی جانے والی عریانی اور بے حیائی کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتے۔۔ بیرونی قوتیں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے عورت مارچ کے نام پر بے حیائی کوفورغ دینا چاہتی ہیں۔۔ کسی بھی معاشرے کو تباہ وبربادہ کرنا ہو تو اس معاشرے کی نوجوان نسل میں بے حیائی عام کردو۔ تو ایسے معاشرے کے لوگ خود اپنی ترقی کی جڑیں کاٹ لیتے ہیں۔۔ اور یہ ہی پاکستان کی نوجوان نسل کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔۔ جو کے فکر کی علامت ہے یہ کھیل بہت سی مختلف صورت میں موجود ہے کبھی میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کے روپ میں، کبھی ٹک ٹاک کے ذریعے، کبھی بے ہودہ ایپس کے ذریعے۔۔
پاکستان میں میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کے خلاف درست وقت اقدامات انجام کیے گئے۔ پر ٹک ٹاک اور بھی بہت سے انٹرنیٹ پر موجود بے ہودہ ایپس کے خلاف پر کوئی اقدامات عمل میں نہیں آیا۔ جو کہ لازمی آنے کی ضرورت ہے۔۔ دنیا میں بہت سے ترقی یافتہ ملک عورت کے حقوق پر مثبت اقدامات انجام دے رہے ہیں۔۔ پاکستان میں بھی عورت کے حقوق پر جلد سے جلد درست اقدامات کی اہم ضرورت ہے۔۔ عورت پر ظلم وستم اور زیادتیوں دن با دن بڑتی جا رہی ہے۔۔ ان عمل کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس عمل نظر نہیں آتا۔۔ اسلام جو کے جہیز کے بارے میں سختی منع کرتا ہے۔۔ پر اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں یہ عمل عام ہوتاجا رہا ہے۔۔۔ میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں اگر مثبت کام کر رہی ہوتی تو سب سے پہلے عورت کے حق پر ان اہم مسائل پر آواز اٹھاتی۔۔ جو کہ ہر پاکستانی عورت کا اہم مسائل میں سے ہے۔۔ اللہ پاک پاکستان کو اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنے والا ملک بنا دے۔۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کی حقیقت” ایک تبصرہ

  1. ٰدین اسلام میں عورت کو بہت عزت دی ہے ۔ اگر وطن عزیز میں اتنی عزت ہی مل جاے عورت کو تب نئی ہم کا میان ہیں۔۔۔
    بہت اچھا ارٹئکل ہے ۔۔۔ اللہ آپ کو کامیابی سے سرفراز کریں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں