منشیات کا جال 166

پاکستان میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ

پاکستان کا تعلق ایک اسلامی ریاست سے ہے پر پاکستانی عوام اسلامی تعلیمات کی عمل پیروی سے دور ہوتی جارہی ہے۔۔ گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستان میں سماجی تبدیلیاں اور معاشی مسائل میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔۔جیسے طلاق اس وقت سب سے اہم مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ جو ہمارے معاشرے کے لیے بہت بڑے خطرے کی علامت ہے۔ جب کسی اسلامی ریاست میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جیسے نا جائز رشتے عام ہو جاتے ہیں۔۔تو پھر اس معاشرے میں جائز رشتے سر ےعام قتل ہوتے ہیں۔۔ اور پاکستان میں بھی یہ صورتحال ہے گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جیسا رشتہ عام ہوتا جا رہا ہے۔۔ بے حیائی کی کوئی حد ہی نہیں رہی ہے۔۔ معاشرے کی ہر شے کا انحصار سماجی تبدیلی پر ہوتا ہے۔۔ اور اس میں کو?ی شک نہیں آج پاکستانی معاشرے میں مغربی کلچر نے اپنی جڑے جمالی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں دو کلچر اپنا راج کر رہیں ہے۔۔ ایک انڈین اور دوسرا مغربی۔۔ پاکستانی عوام خود اپنے کلچر کو اپنے ہی ہاتھ ختم کر رہی ہے۔ دن با دن ازدواجی زندگی بھی ان ہی دو کلچر کی شکار ہے جب ہی ازدواجی زندگی سے وابستہ مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔۔ آج کل شادی کے بعد طلاق ایک عام سی بات ہو گ?ی ہے۔ اور افسوس کی بات تو یہ ہے۔ اس اہم مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی ٹھوس قانونی کاروائی کا عمل نظر نہیں آرہا ہے۔ اسلام میں طلاق کو سخت نہ پسند کیاگیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ازدواجی زندگی کو بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اور اس میں ہونے والے مسائل کا حل بھی اچھے طریقے بیان کیا گیا ہے۔۔۔ اسلام دین فطرت اور دین انسانیت ہے اس کی تمام تعلیمات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔۔اسلام کو دیگر مذہب میں اس لحاظ سے ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ کہ اس کے سوا دنیا کے دیگر مذہب اور تہذیبیں ایسا ضابطہ حیات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ جس میں فرد کی انفرادی زندگی سے پورے انسانی معاشرے کی اجتماعی زندگی تک فرد اور معاشرے کی اصلاح کی ضمانت فراہم کی گئی ہو۔ جب کہ اسلام جو فلسفہ حیات اور مثالی شریعت عطا کرتاہے۔ اس کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں کی تعمیر اور صورت گری یقینی امر ہے۔ اسلامی تہذیب ومعاشرت اسلامی ضابطہ حیات کی ترجمان اور انسانی فطرت کی عکاسی کرتی نظرآتی ہے جب کہ مغربی تہذیب اسلامی تعلیمات سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ اگر دونوں تہذیبوں کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔۔ مغربی تہذیب مادر پدر آزادی کا دوسرا نام ہے یہ دین فطرت اور دین انسانیت سے بغاوت کا نام ہیں۔۔ اور پاکستان میں بھی سماجی تبدیلیاں کے سبب ہی بہت سے نئے مسائل نے جنم لیا ہے آج پاکستانی عوام میں مغربی روایت کے ساتھ انڈین رسم وروج کا کلچر صاف نظر آتا ہے۔۔ اور یہ اہم وجہ بھی ہے۔۔ازدواجی زندگی میں بڑھتے ہوئے مسائل کی۔۔ پاکستان میں طلاق کی شرح میں لگاتار اضافہ نظر آرہا ہے۔ رپورٹ کے جائزے سے بہت سی صورت سامنے آئی ہیں۔۔ صرف وفاقی دارالحکومت ،اسلام آباد میں گزشتہ 16 ماہ کے دوران 1104 جوڑوں میں طلاقیں ہوئیں ہیں جن میں سے 414خواتین نے خود خلع حاصل کی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہناہے کہ عام لوگوں میں برداشت کی کمی اوراپنی خواہشات کو سب سے مقدم سمجھنے کی وجہ سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہورہاہے۔پاکستان میں سماجی رویوں میں ناہمواری اور کئی وجوہات کی بنا پر طلاق کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ اسلام آباد کی ضلعی اتتظامہ کے ریکارڈ کے مطابق سال 2018 کے دوران صرف اسلام آباد کے شہری علاقوں میں 779طلاقیں رجسٹر ہوئیں تھی جن میں سے 316 خلع کے کیسز تھے اور ہر سال اس کی شرح میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ اسی سال 427 مردوں نے اپنی بیویوں کا طلاقیں دیں 2019 کے پہلے 4ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت میں طلاق کے 269 کیسز رجسٹر ہوئے جن میں سے 98 خواتین نے خلع لے لیا۔ اسلام آباد کے علاوہ اور بھی دوسرے شہروں میں طلاق کے کیسز تیزی سے سامنے آئے ہیں۔۔۔۔
چیئرمین ثالثی کونسل سید شفاقت حسین نے مطابق طلاق کی شرح ارینجڈ میرج کے مقابلہ میں لومیرجز میں زیادہ دیکھنےمیں آتی ہے۔
بقول ان کے اس کی اہم وجہ جذباتی فیصلے کے بعد زندگی کی مشکل حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ جو مشکل امر ہے۔۔ انہوں نے کہاں کہ شادی سے پہلے لو میرج کے لیے لڑکا اور لڑکی کی ملاقاتیں بہت مختصر ہوتی ہیں۔۔ جن میں وہ صرف ایک دوسرے کے حوالے سے مثبت باتیں جانتے ہیں۔ لیکن شادی کے بعد مستقل ساتھ رہنے پر ایک دوسرے کے منفی پہلوں سامنے آتے ہیں۔۔ ثالثی کونسل کے
چیئرمین نے بتایا کہ زیادہ تر جوڑے اس صورتحال میں صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہو? ایک دوسرے کی کمی کو مل کر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعضں ان سب سے گھبرا کر طلاق کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دوسری بڑی وجہ میاں بیوی کا شادی سے پہلے ایک دوسرے سے بڑی امیدیں باندھ لیتے ہیں اور پھر جب عملی زندگی میں یہ توقعات پوری نہیں ہو پاتیں تو طلاق ہو جاتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بعضں اوقات صرف بعض بیویاں اس بات پر خلع لینے کے لیے آجاتی ہیں کہ ان کا شوہر انہیں گھمانے پھرانے کے لیے نہیں لیکر جاتا یا پھر ان کے ذاتی اخراجات کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔۔اسلام آباد ملازمت پیشہ لوگوں کا شہر ہے اور یہاں رہنے والوں کی آمدنی محددود ہوتی ہے۔ اور ایسے میں جب شوہر سے پوچھا جاتاہے۔ اس کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ بیوی کے مطالبات پورے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان نفرت بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پھر طلاق میں ہی ان کو اپنی بقا نظر آتی ہے۔ چیئرمین ثالثی کونسل نے مزید بتایا اس سارے عمل میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق بچے ہیں بعض اوقات تین سے چار بچوں والے لوگ بھی طلاق لینے یا دینے پہنچ جاتے ہیں اور ایسی صورت میں بچے ماں کے پاس رہیں یا باپ کے ان کو ایک خوش حال گھر کا ماحول نہیں مل سکتا اور ایسی صورت میں بچوں میں منفی رویہ کا شکار با آسانی ہو جاتے ہیں۔۔
طلاق کی بڑھتی شرح کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتوں وکیل طلاق کے کیسز کے حوالہ سے بتاتی ہیں کہ نوجوان جوڑے آتے ہیں اور بعض اوقات ایسے جوڑے بھی آتے ہیں جو درمیانی عمر کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا طلاق کی بڑی وجہ برداشت کی کمی اور ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہونا ہے مرد یا خواتین کے لیے شادی کے بعد بھی کسی دوسری عورت یا مرد سے تعلقات ازدواجی زندگی کے لیے زہر قاتل کا کام انجام دیتا ہیں۔
طلاق کی اہم وجہ سوشل اسٹیٹسں بھی ہے ماضی میں سوشل اسٹیٹس کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن معاشرتی فریق بہت بڑی وجہ ہے۔
پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں کیا جاتا تھا جہاں طلاق کی شرح ماضی میں بہت کم تھی لیکن اب اس میں نتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ تمام تر صورت حال کے مطالعہ سے با آسانی صاف ظاہر ہے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی اہم وجہ صرف اور صرف مغربی اور انڈین کلچر کو اپنانے کا سبب ہے ایک وقت تھا۔۔ جب دنیا میں پاکستانی خواتین اپنی حیا اور ازدواجی زندگی میں خدمات کی وجہ سے مختلف نظر آتی تھی۔۔ اور مرد اپنے کردار کی وجہ سے، ماضی میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں۔۔ مغربی عورتوں کا پاکستانی مردوں پر مثبت کردارکی وجہ سے دل کے آگے ہار جانا۔۔ پر اب یہ حیا مغربی اور انڈین کلچر کے ہاتھ قتل ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اگر طلاق کی شرح کو روکنے کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا تو۔۔ آنے والی نسل بے حیائی میں اور زیادہ ڈوب جائے گی۔۔اور اس ہی طرح بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کا مطلب ہے۔۔آنے والے وقت میں شادی کی شرح کچھ فیصد ہی رہے جا ئے گی۔۔جیسے مغربی کلچر میں ہوتاہے۔۔ میاں بیوی جیسے پاک اور خوبصورت رشتہ کو لباس کی طرح تبدیل کرنا۔۔ ہماری ثقافت اور اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔۔ معاشرے میں مثبت رویہ جب ہی آئے گا جب ہم خود اپنے کردار پر غور کرے گئے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں